سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي أَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ باب: محرم شکار کا گوشت کھائے اس کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنْ الْمُطَّلِبِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " صَيْدُ الْبَرِّ لَكُمْ حَلَالٌ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ مَا لَمْ تَصِيدُوهُ أَوْ يُصَدْ لَكُمْ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، وَطَلْحَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ جَابِرٍ حَدِيثٌ مُفَسَّرٌ ، وَالْمُطَّلِبُ لَا نَعْرِفُ لَهُ سَمَاعًا مِنْ جَابِرٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لَا يَرَوْنَ بِأَكْلِ الصَّيْدِ لِلْمُحْرِمِ بَأْسًا إِذَا لَمْ يَصْطَدْهُ أَوْ لَمْ يُصْطَدْ مِنْ أَجْلِهِ ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : هَذَا أَحْسَنُ حَدِيثٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَاب وَأَفْسَرُ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .´جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو ، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابوقتادہ اور طلحہ رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ۲- جابر کی حدیث مفسَّر ہے ، ۳- اور ہم مُطّلب کا جابر سے سماع نہیں جانتے ، ۴- اور بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ وہ محرم کے لیے شکار کے کھانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے جب اس نے خود اس کا شکار نہ کیا ہو ، نہ ہی وہ اس کے لیے کیا گیا ہو ، ۵- شافعی کہتے ہیں : یہ اس باب میں مروی سب سے اچھی اور قیاس کے سب سے زیادہ موافق حدیث ہے ، اور اسی پر عمل ہے ۔ اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” خشکی کا شکار تمہارے لیے حالت احرام میں حلال ہے جب کہ تم نے اس کا شکار خود نہ کیا ہو، نہ ہی وہ تمہارے لیے کیا گیا ہو۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 846]
نوٹ:
(سند میں عمرو بن ابی عمرو ضعیف ہیں، لیکن اگلی روایت سے اس کے معنی کی تائید ہو رہی ہے)
جابر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” خشکی کا شکار تمہارے لیے حلال ہے جب تک کہ تم خود شکار نہ کرو، یا تمہارے لیے شکار نہ کیا جائے۔“ ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں: اس حدیث میں «عمرو بن ابی عمرو» قوی نہیں ہیں، گو امام مالک نے ان سے روایت کی ہے۔ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2830]
(2) امام نسائی رحمہ اللہ نے اس حدیث کے ایک راوی عمرو بن ابی عمرو کو ضعیف کہا ہے مگر کثیر محدثین نے اسے قوی کہا ہے حتیٰ کہ امام بخاری ومسلم رحمہما اللہ تو اس کی حدیثیں اپنی صحیحین میں لائے ہیں، لہٰذا یہ راوی ثقہ ہے۔ لیکن دوسری وجوہ سے یہ روایت ضعیف ہے، جس کی صراحت تخریج میں ہے، تاہم مسئلہ صحیح ہے۔
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ” خشکی کا شکار تمہارے لیے اس وقت حلال ہے جب تم خود اس کا شکار نہ کرو اور نہ تمہارے لیے اس کا شکار کیا جائے۔“ ابوداؤد کہتے ہیں: جب دو روایتیں متعارض ہوں تو دیکھا جائے گا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل کس کے موافق ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1851]
➋ امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ کابیان جب دو حدیثیں ایک دوسرے کے برخلاف ملیں الخ معلوم ہونا چاہیے کہ صحیح الاسناد احادیث میں جہاں تعارض محسوس ہوتا ہے ان میں یقیناً پہلے کا قول وعمل مسنوخ اور بعد والا ناسخ ہوتا ہے۔ اور تواریخ کا علم نہ ہوسکے۔تو دیگر وجو ہ ترجیحات کے ذریعے سے ایک کو راحج اور دوسرے کو مرجوح قرار دیا جائے گا۔اس قسم کی تحقیقات علمائے راسخین اور ان کی موثوق تالیفات ہی سے مل سکتی ہیں۔اس موضوع پر علمائے محدثین نے بہت محنت کی ہے۔مثلاً کتاب الاعتبار فی الناسخ والمنسوخ (للحاذی)۔الناسخ والمنسوخ (امام احمدؒ) تجرید الاحادیث المنسوخۃ ابن الجوزی۔بظاہر مختلف المعانی احادیث کے سلسلے میں یہ کتب قابل مراجعہ ہیں۔ اختلاف الحدیث (امام شافعی ؒ) تاویل مختلف الحدیث (ابن قتیبہ عبد اللہ ب ن مسلم ؒ اور۔مشکل الاثار (ابو جعفر احمد بن سلامہ الطحاوی)
➌ امام الائمہ ابو بکر بن خزیمہ ؒ فر مایا کرتے تھے۔ کہ جس شخص کو دو صحیح حدیثوں میں تعارض اور تضاد محسوس ہوتا ہو وہ ہمارے پاس لے آئے ہم ان میں تطبیق دے دیں گے۔اللہ اکبر! یہ ہیں ہمارے اسلاف محدثین۔