سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي رَفْعِ الصَّوْتِ بِالتَّلْبِيَةِ باب: تلبیہ میں آواز بلند کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَانِي جِبْرِيلُ فَأَمَرَنِي أَنْ آمُرَ أَصْحَابِي أَنْ يَرْفَعُوا أَصْوَاتَهُمْ بِالْإِهْلَالِ وَالتَّلْبِيَةِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ خَلَّادٍ ، عَنْ أَبِيهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَا يَصِحُّ ، وَالصَّحِيحُ هُوَ عَنْ خَلَّادِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِيهِ : وَهُوَ خَلَّادُ بْنُ السَّائِبِ بْنِ خَلَّادِ بْنِ سُوَيْدٍ الْأَنْصَارِيُّ .´سائب بن خلاد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- خلاد بن السائب کی حدیث جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے ، حسن صحیح ہے ۔
۲- بعض لوگوں نے یہ حدیث بطریق : «خلاد بن السائب عن زيد بن خالد عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ہے ۔ صحیح یہی ہے کہ خلاد بن سائب نے اپنے باپ سے روایت کی ہے ، اور یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری ہیں ، ۳- اس باب میں زید بن خالد ، ابوہریرہ اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
سائب بن خلاد رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل نے آ کر مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 829]
1؎:
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مردوں کے لیے تلبیہ میں آواز بلند کرنا مستحب ہے ((أَصْحَابِي)) کی قید سے عورتیں خارج ہو گئیں اس لیے بہتر یہی ہے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز پست رکھیں۔
مگر وجوب کی دلیل بالصراحت کہیں نہیں ہے۔
سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل آئے اور انہوں نے مجھ سے کہا: محمد! آپ اپنے اصحاب کو حکم دیجئیے کہ وہ تلبیہ میں اپنی آواز بلند کریں۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2754]
سائب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ ۱؎ اور ساتھ والوں کو «الإهلال» یا فرمایا «التلبية» میں آواز بلند کرنے کا حکم دوں “ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1814]
➋ عام محدثین نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنے میں آواز اونچی رکھنامستحب ہے مگر عورتیں اس سےمستثنی ہیں۔
خلاد بن سائب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ’’ جبرائیل امین میرے پاس آئے اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنے صحابہ کو حکم دوں کہ لبیک کہتے ہوئے اپنی آوازوں کو بلند کریں۔ ‘‘ اسے پانچوں نے روایت کیا۔ امام ترمذی اور امام ابن حبان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 594]
یہ حدیث صریح دلیل ہے کہ بلند آواز سے تلبیہ کہنا چاہیے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس قدر اونچی آواز سے تلبیہ کہتے کہ ان کا گلا بیٹھ جاتا۔ جمہور علمائے کرام کی یہی رائے ہے۔ مگر امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بلند آواز سے تلبیہ صرف مسجد منٰی اور مسجد حرام کے پاس کہنا چاہیے۔ [سبل السلام]
راوی حدیث:
حضرت خلَّاد رحمہ اللہ، خلاد کی ”خا“ پر زبر اور ”لام“ مشدد ہے۔ یہ خلاد بن سائب بن خلاد بن سوید انصاری خزرجی ہیں۔ تیسرے طبقے کے ثقہ تابعی ہیں جنہوں نے انہیں صحابی کہا انہیں وہم ہوا ہے۔
«أبيه» ان کے والد سائب رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، ان کی کنیت ابوسلمہ ہے، بدر میں حاضر تھے، عہد معاویہ میں یمن کے گورنر بنے۔ بعض نے کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں یمن کا عامل مقرر کیا اور 71 ھجری میں فوت ہوئے۔
اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں وحی قرآن کے بغیر بھی حاضر ہوا کرتے تھے اور اس وقت ”الحكمة“ کی وحی ہوتی، لہٰذا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی وحی (منزل من الله) اور واجب الاتباع ہے۔
علماء نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ تلبیہ کہنے میں آواز اونچی رکھنا مستحب ہے عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں۔ (سنن ابی داود دار السلام)۔