حدیث نمبر: 823
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ وَهُمَا " يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ : لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ` انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا ، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے ۔ ضحاک بن قیس نے کہا : ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو ، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا : بہت بری بات ہے جو تم نے کہی ، میرے بھتیجے ! تو ضحاک بن قیس نے کہا : عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے ، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 823
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف الإسناد
تخریج حدیث «سنن النسائی/الحج 50 (2735) ، ( تحفة الأشراف : 3928) ، موطا امام مالک/الحج 19 (60) ، سنن الدارمی/الحج 18 (1855) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل لین الحدیث ہیں، لیکن اصل مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2735

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حج تمتع کا بیان۔`
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 823]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل لین الحدیث ہیں، لیکن اصل مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 823 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2735 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´حج تمتع کا بیان۔`
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2735]
اردو حاشہ: (1) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے بہت سے لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور انھوں نے اسے شرعی امر سمجھ لیا، مگر صحابہ نے اور بعد میں ائمہ کرام نے وضاحت کی تمتع شرعاً جائز ہے بلکہ بہت سے ائمہ کے نزدیک افضل ہے۔
(2) حاکم وقت یا کسی کی بھی بات شریعت کے خلاف ہو اور اس کی تردید مقصود ہو تو احسن انداز میں کرنی چاہیے جو زیادہ مؤثر ہو اور اس میں وہ اپنی ہتک محسوس نہ کرے۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2735 سے ماخوذ ہے۔