سنن ترمذي
كتاب الحج عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: حج کے احکام و مناسک
باب مَا جَاءَ فِي التَّمَتُّعِ باب: حج تمتع کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَالضَّحَّاكَ بْنَ قَيْسٍ وَهُمَا " يَذْكُرَانِ التَّمَتُّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ : لَا يَصْنَعُ ذَلِكَ إِلَّا مَنْ جَهِلَ أَمْرَ اللَّهِ ، فَقَالَ سَعْدٌ : بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أَخِي ، فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ قَيْسٍ : فَإِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَدْ نَهَى عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالَ سَعْدٌ : قَدْ صَنَعَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَنَعْنَاهَا مَعَهُ " . قَالَ : هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ .´محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ` انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا ، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے ۔ ضحاک بن قیس نے کہا : ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو ، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا : بہت بری بات ہے جو تم نے کہی ، میرے بھتیجے ! تو ضحاک بن قیس نے کہا : عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے ، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث صحیح ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی الله عنہما سے سنا، دونوں عمرہ کو حج میں ملانے کا ذکر کر رہے تھے۔ ضحاک بن قیس نے کہا: ایسا وہی کرے گا جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: بہت بری بات ہے جو تم نے کہی، میرے بھتیجے! تو ضحاک بن قیس نے کہا: عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے اس سے منع کیا ہے، اس پر سعد رضی الله عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کیا ہے اور آپ کے ساتھ ہم نے بھی اسے کیا ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الحج/حدیث: 823]
نوٹ:
(سند میں محمد بن عبداللہ بن حارث بن نوفل لین الحدیث ہیں، لیکن اصل مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)
محمد بن عبداللہ بن حارث بن عبدالمطلب کہتے ہیں کہ انہوں نے سعد بن ابی وقاص اور ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہما کو جس سال معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حج کیا تمتع کا یعنی عمر رضی اللہ عنہ کے بعد حج کرنے کا ذکر کرتے سنا، ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: اسے وہی کرے گا، جو اللہ کے حکم سے ناواقف ہو گا، اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے بھتیجے! بری بات ہے، جو تم نے کہی، تو ضحاک رضی اللہ عنہ نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے تو اس سے روکا ہے اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے کہا [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 2735]
(2) حاکم وقت یا کسی کی بھی بات شریعت کے خلاف ہو اور اس کی تردید مقصود ہو تو احسن انداز میں کرنی چاہیے جو زیادہ مؤثر ہو اور اس میں وہ اپنی ہتک محسوس نہ کرے۔