سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الإِبِلِ باب: اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ , فَقَالَ : " تَوَضَّئُوا مِنْهَا " , وَسُئِلَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْغَنَمِ , فَقَالَ : " لَا تَتَوَضَّئُوا مِنْهَا " . قال : وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَأُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رَوَى الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ ، وَالصَّحِيحُ حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، وَرَوَى عُبَيْدَةُ الضَّبِّيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ ذِي الْغُرَّةِ الْجُهَنِيِّ ، وَرَوَى حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ فَأَخْطَأَ فِيهِ ، وَقَالَ فِيهِ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ وَالصَّحِيحُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّازِيِّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ ، قَالَ إِسْحَاق : صَحَّ فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثَانِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، حَدِيثُ الْبَرَاءِ ، وَحَدِيثُ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ , وَإِسْحَاق ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ ، أَنَّهُمْ لَمْ يَرَوْا الْوُضُوءَ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ .´براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ” اس سے وضو نہ کرو “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں جابر بن سمرہ اور اسید بن حضیر رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- یہی قول احمد ، عبداللہ اور اسحاق بن راہویہ کا ہے ، ۳- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں کہ اس باب میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے دو حدیثیں صحیح ہیں : ایک براء بن عازب کی ( جسے مولف نے ذکر کیا اور اس کے طرق پر بحث کی ہے ) اور دوسری جابر بن سمرہ کی ، ۴- یہی قول احمد اور اسحاق بن راہویہ کا ہے ۔ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم سے مروی ہے کہ ان لوگوں کی رائے ہے کہ اونٹ کے گوشت سے وضو نہیں ہے اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
براء بن عازب رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم سے اونٹ کے گوشت کے بارے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے وضو کرو اور بکری کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ” اس سے وضو نہ کرو۔“ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 81]
1؎:
لوگ اوپر والی روایت کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ یہاں وضو سے مراد وضو لغوی ہے، لیکن یہ بات درست نہیں، اس لیے کہ وضو ایک شرعی لفظ ہے جسے بغیر کسی دلیل کے لغوی معنی پر محمول کرنا درست نہیں۔
«. . . سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ لُحُومِ الْإِبِلِ، فَقَالَ: تَوَضَّئُوا مِنْهَا . . .»
”. . . براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کا گوشت کھانے سے وضو کے متعلق سوال کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے وضو کرو . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 184]
➊ اونٹ حلال جانور ہے مگر اس کا گوشت کھانے سے وضو کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان مقدس ہے۔ اس میں کیا حکمت یا علت ہے؟ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمارے لیے تو اللہ عزوجل کا ارشاد ہے: «وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا» [59-الحشر:7] ’’رسول جو تمہیں دے وہ لے لو اور جس سے روک دے اس سے رک جاؤ۔“
➋ بکریاں پالنا باعث برکت ہے۔
براء بن عازب رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اونٹ کے باڑوں (بیٹھنے کی جگہوں) میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اونٹ کے بیٹھنے کی جگہوں میں نماز نہ پڑھو اس لیے کہ وہ شیطانوں میں سے ہیں“، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بکریوں کے باڑوں میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہاں نماز پڑھو، اس لیے کہ یہ باعث برکت ہے۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة /حدیث: 493]
یہ حکم اونٹوں کے باڑے سے متعلق ہے، جہاں انہیں رات کو باندھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ جگہ میں جہاں ایک دو اونٹ ہوں، وہاں جائز ہے بلکہ اسے سترہ بھی بنایا جا سکتا ہے۔