حدیث نمبر: 805
حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا اعْتَكَفَ الرَّجُلُ أَنْ لَا يَخْرُجَ مِنَ اعْتِكَافِهِ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ ، وَاجْتَمَعُوا عَلَى هَذَا أَنَّهُ يَخْرُجُ لِقَضَاءِ حَاجَتِهِ لِلْغَائِطِ وَالْبَوْلِ ، ثُمَّ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي عِيَادَةِ الْمَرِيضِ وَشُهُودِ الْجُمُعَةِ وَالْجَنَازَةِ لِلْمُعْتَكِفِ ، فَرَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، أَنْ يَعُودَ الْمَرِيضَ وَيُشَيِّعَ الْجَنَازَةَ وَيَشْهَدَ الْجُمُعَةَ إِذَا اشْتَرَطَ ذَلِكَ ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ لَهُ أَنْ يَفْعَلَ شَيْئًا مِنْ هَذَا ، وَرَأَوْا لِلْمُعْتَكِفِ إِذَا كَانَ فِي مِصْرٍ يُجَمَّعُ فِيهِ أَنْ لَا يَعْتَكِفَ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ ، لِأَنَّهُمْ كَرِهُوا الْخُرُوجَ لَهُ مِنْ مُعْتَكَفِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ ، وَلَمْ يَرَوْا لَهُ أَنْ يَتْرُكَ الْجُمُعَةَ ، فَقَالُوا : لَا يَعْتَكِفُ إِلَّا فِي مَسْجِدِ الْجَامِعِ حَتَّى لَا يَحْتَاجَ أَنْ يَخْرُجَ مِنْ مُعْتَكَفِهِ لِغَيْرِ قَضَاءِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ ، لِأَنَّ خُرُوجَهُ لِغَيْرِ حَاجَةِ الْإِنْسَانِ قَطْعٌ عِنْدَهُمْ لِلِاعْتِكَافِ ، وَهُوَ قَوْلُ مَالِكٍ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وقَالَ أَحْمَدُ : لَا يَعُودُ الْمَرِيضَ وَلَا يَتْبَعُ الْجَنَازَةَ عَلَى حَدِيثِ عَائِشَةَ ، وقَالَ إِسْحَاق : إِنِ اشْتَرَطَ ذَلِكَ فَلَهُ أَنْ يَتْبَعَ الْجَنَازَةَ وَيَعُودَ الْمَرِيضَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ہم سے اسے قتیبہ نے` بسند «الليث بن سعد عن ابن شهاب عن عروة وعمرة عن عائشة» روایت کیا ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اور اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے کہ جب آدمی اعتکاف کرے تو انسانی ضرورت کے بغیر اپنے معتکف سے نہ نکلے ، اور ان کا اس بات پر اتفاق ہے کہ وہ پاخانہ پیشاب جیسی اپنی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے نکل سکتا ہے ، ۲- پھر معتکف کے لیے مریض کی عیادت کرنے ، جمعہ اور جنازہ میں شریک ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے ، صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کی رائے ہے کہ وہ مریض کی عیادت کر سکتا ہے ، جنازہ کے ساتھ جا سکتا ہے اور جمعہ میں شریک ہو سکتا ہے جب کہ اس نے اس کی شرط لگا لی ہو ۔ یہ سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے ، ۳- اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اسے ان میں سے کوئی بھی چیز کرنے کی اجازت نہیں ، ان کا خیال ہے کہ معتکف کے لیے ضروری ہے کہ جب وہ کسی ایسے شہر میں ہو جہاں جمعہ ہوتا ہو تو مسجد جامع میں ہی اعتکاف کرے ۔ اس لیے کہ یہ لوگ جمعہ کے لیے اپنے معتکف سے نکلنا اس کے لیے مکروہ قرار دیتے ہیں اور اس کے لیے جمعہ چھوڑنے کو بھی جائز نہیں سمجھتے ، اس لیے ان کا کہنا ہے کہ وہ جامع مسجد ہی میں اعتکاف کرے تاکہ اسے انسانی حاجتوں کے علاوہ کسی اور حاجت سے باہر نکلنے کی ضرورت نہ باقی رہے ، اس لیے کہ بغیر کسی انسانی ضرورت کے مسجد سے نکلنے سے اعتکاف ٹوٹ جاتا ہے ، یہی مالک اور شافعی کا قول ہے ۔
۴- اور احمد کہتے ہیں : عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث کی رو سے نہ وہ مریض کی عیادت کرے گا ، نہ جنازہ کے ساتھ جائے گا ۔
۵- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : اگر وہ ان چیزوں کی شرط کر لے تو اسے جنازے کے ساتھ جانے اور مریض کی عیادت کرنے کی اجازت ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: **
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الاعتکاف 3 (2029) ، صحیح مسلم/الحیض 3 (297) ، سنن ابی داود/ الصیام 79 (2468) ، سنن ابن ماجہ/الصوم 64 (1778) ، ( تحفة الأشراف : 16579) (صحیح) وأخرجہ کل من: ح/الحیض 2 (295) ، والاعتکاف 2 (2028) ، و19 (2046) ، واللباس 76 (5925) ، و سنن ابی داود/ الصیام 79 (2467) ، وط/الطہارة 28 (102) ، والاعتکاف 1 (1) ، و مسند احمد (6/104) ، 204، 231، 247، 262) ، وسنن الدارمی/الطہارة 107 (1085) ، من غیر ہذا الطریق، وبتصرف یسیر فی السیاق۔»