سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تُحْفَةِ الصَّائِمِ باب: روزہ دار کے تحفے کا بیان۔
حدیث نمبر: 801
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ، عَنْ عُمَيْرِ بْنِ مَأْمُونٍ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تُحْفَةُ الصَّائِمِ الدُّهْنُ وَالْمِجْمَرُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ . لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ طَرِيفٍ . وَسَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ يُضَعَّفُ ، وَيُقَالُ : عُمَيْرُ بْنُ مَأْمُومٍ أَيْضًا .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- اس کی سند قوی نہیں ہے ، ۳- ہم اسے صرف سعد بن طریف کی روایت سے جانتے ہیں ، اور
۴- سعد بن طریف ضعیف قرار دیے جاتے ہیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´روزہ دار کے تحفے کا بیان۔`
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 801]
حسن بن علی رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کا تحفہ خوشبودار تیل اور عود کی انگیٹھی ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 801]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس کا راوی ’’سعد بن طریف‘‘ وضاع ہے)
نوٹ:
(اس کا راوی ’’سعد بن طریف‘‘ وضاع ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 801 سے ماخوذ ہے۔