سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي (وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ) باب: آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر۔
حدیث نمبر: 798
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَ : " لَمَّا نَزَلَتْ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 ، كان من أراد منا أن يفطر ويفتدي حتى نزلت الآية التي بعدها فنسختها " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ ، وَيَزِيدُ هُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَى سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` جب آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے “ ( البقرہ : ۱۸۴ ) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ۱؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ۲؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے ۔
وضاحت:
۱؎: بعد والی آیت سے مراد آیت کریمہ «فمن شهد منكم الشهر فليصمه» (البقرة: 185) ہے۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنہیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
۲؎: یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية» منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنہیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´آیت کریمہ: «وعلى الذين يطيقونه» کی تفسیر۔`
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے “ (البقرہ: ۱۸۴) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ۱؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 798]
سلمہ بن الاکوع رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «وعلى الذين يطيقونه فدية طعام مسكين» ” اور ان لوگوں پر جو روزے کی طاقت رکھتے ہیں ایک مسکین کو کھانا کھلانے کا فدیہ ہے “ (البقرہ: ۱۸۴) اتری تو ہم میں سے جو چاہتا کہ روزہ نہ رکھے وہ فدیہ دے دیتا یہاں تک کہ اس کے بعد والی ۱؎ آیت نازل ہوئی اور اس نے اسے منسوخ کر دیا ۲؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 798]
اردو حاشہ:
1؎:
بعد والی آیت سے مراد آیت کریمہ ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: 185] ہے۔
2؎:
یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ﴾ منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنھیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
1؎:
بعد والی آیت سے مراد آیت کریمہ ﴿فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ﴾ [البقرة: 185] ہے۔
2؎:
یہ حدیث اس بات پر صریح دلیل ہے کہ آیت کریمہ ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ﴾ منسوخ ہے، یہی جمہور کا قول ہے اور یہی حق ہے، اور ابن عباس کی رائے ہے کہ یہ آیت محکم ہے اور اس کا حکم ان بڑے بوڑھوں کے ساتھ خاص ہے جنھیں روزہ رکھنے میں زحمت اور پریشانی ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 798 سے ماخوذ ہے۔