حدیث نمبر: 793
حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ : قُلْتُ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّى عَلِمْتَ أَبَا الْمُنْذِرِ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، قَالَ : بَلَى ، أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهَا لَيْلَةٌ صَبِيحَتُهَا تَطْلُعُ الشَّمْسُ لَيْسَ لَهَا شُعَاعٌ " فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا ، وَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهَا فِي رَمَضَانَ وَأَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَلَكِنْ كَرِهَ أَنْ يُخْبِرَكُمْ فَتَتَّكِلُوا . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´زر بن حبیش کہتے ہیں کہ` میں نے ابی بن کعب رضی الله عنہ سے پوچھا : ابوالمنذر ! آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ ستائیسویں رات ہے ؟ تو انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی ہے کہ ” یہ ایک ایسی رات ہے جس کی صبح جب سورج نکلے گا تو اس میں شعاع نہیں ہو گی ، تو ہم نے گنتی کی اور ہم نے یاد رکھا ، ( زرّ کہتے ہیں ) اللہ کی قسم ! ابن مسعود کو بھی معلوم ہے کہ وہ رمضان میں ہے اور وہ ستائیسویں رات ہے ۔ لیکن وہ یہ ناپسند کرتے ہیں کہ تمہیں ( اسے مسلمانو ! ) بتا دیں اور تم تکیہ کر کے بیٹھ جاؤ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 793
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1247)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 25 (762) ، سنن ابی داود/ الصلاة 319 (1378) ( تحفة الأشراف : 18) ، مسند احمد (5/130، 131) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 762

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 762 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت زر بن حبیش رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ جو پورے سال کی راتوں میں کھڑا ہو گا (سال کی ہر رات قیام کرے گا) اس کو شب قدر نصیب ہو گی تو انھوں نے فرمایا: عبداللہ پر اللہ رحمت فرمائے ان کا مقصد یہ تھا کہ لوگ (کسی ایک رات کے قیام) پر اعتماد و قناعت نہ کر لیں ورنہ ان کو خوب پتہ تھا کہ شب قدر رمضان میں ہے... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:2777]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات نہیں فرمائی کہ شب قدر متعین طور پر ستائیسویں شب میں ہی ہوتی ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو ایک خاص نشانی بتائی تھی۔
وہ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے تجربہ اور مشاہدہ کی روسے عموماً ستائیسویں شب کی صبح ہی کو پائی گئی۔
اس لیے انہوں نے پوری قطیعت اور یقین کے ساتھ یہ بات کہی کہ شب قدرمتعین طور پر ستائیسویں شب ہی ہوتی ہے۔
بعض دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اپنی رؤیت اور مشاہدہ کے اعتبار سے اکسیویں تئیسویں شب کے بارے میں یہی بات کی، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ صرف تئیسویں شب کو یہ مسجد نبوی میں قیام کے لیے آیا کرتے تھے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 762 سے ماخوذ ہے۔