سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ باب: شب قدر کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجَاوِرُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، وَيَقُولُ : " تَحَرَّوْا لَيْلَةَ الْقَدْرِ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ ، وَأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، وَجَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَالْفَلَتَانِ بْنِ عَاصِمٍ ، وَأَنَسٍ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُنَيْسٍ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَبِلَالٍ ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَائِشَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَوْلُهَا يُجَاوِرُ يَعْنِي يَعْتَكِفُ ، وَأَكْثَرُ الرِّوَايَاتِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْتَمِسُوهَا فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ فِي كُلِّ وِتْرٍ " . وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ : " أَنَّهَا لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَلَيْلَةُ ثَلَاثٍ وَعِشْرِينَ وَخَمْسٍ وَعِشْرِينَ وَسَبْعٍ وَعِشْرِينَ وَتِسْعٍ وَعِشْرِينَ وَآخِرُ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : قَالَ الشَّافِعِيُّ : كَأَنَّ هَذَا عِنْدِي وَاللَّهُ أَعْلَمُ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُجِيبُ عَلَى نَحْوِ مَا يُسْأَلُ عَنْهُ ، يُقَالُ لَهُ : نَلْتَمِسُهَا فِي لَيْلَةِ كَذَا ، فَيَقُولُ : الْتَمِسُوهَا فِي لَيْلَةِ كَذَا ، قَالَ الشَّافِعِيُّ : وَأَقْوَى الرِّوَايَاتِ عِنْدِي فِيهَا لَيْلَةُ إِحْدَى وَعِشْرِينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ أَنَّهُ كَانَ يَحْلِفُ أَنَّهَا لَيْلَةُ سَبْعٍ وَعِشْرِينَ ، وَيَقُولُ : أَخْبَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَلَامَتِهَا فَعَدَدْنَا وَحَفِظْنَا ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ ، أَنَّهُ قَالَ : لَيْلَةُ الْقَدْرِ تَنْتَقِلُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ أَيُوبَ ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ بِهَذَا .´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے اور فرماتے : ” شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عائشہ رضی الله عنہا کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں عمر ، ابی ، جابر بن سمرہ ، جابر بن عبداللہ ، ابن عمر ، فلتان بن عاصم ، انس ، ابو سعید خدری ، عبداللہ بن انیس ، ابوبکرہ ، ابن عباس ، بلال اور عبادہ بن صامت رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- «یُجَاوِرُ» کے معنی «یَعْتَکِفُ» ” اعتکاف کرتے تھے “ کے ہیں ، ۴- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی اکثر روایات یہی ہیں کہ آپ نے فرمایا : ” اسے آخری عشرے کی تمام طاق راتوں میں تلاش کرو “ ، اور شب قدر کے سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اکیسویں ، تئیسویں ، پچیسویں ، ستائیسویں ، انتیسویں ، اور رمضان کی آخری رات کے اقوال مروی ہیں ، شافعی کہتے ہیں کہ میرے نزدیک اس کا مفہوم - «واللہ اعلم» - یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہر سائل کو اس کے سوال کے مطابق جواب دیتے تھے ۔ آپ سے کہا جاتا : ہم اسے فلاں رات میں تلاش کریں ؟ آپ فرماتے : ہاں فلاں رات میں تلاش کرو ، ۵- شافعی کہتے ہیں : میرے نزدیک سب سے قوی روایت اکیسویں رات کی ہے ، ۶- ابی بن کعب سے مروی ہے وہ قسم کھا کر کہتے کہ یہ ستائیسویں رات ہے ۔ کہتے کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی علامتیں بتائیں ، ہم نے اسے گن کر یاد رکھا ۔ ابوقلابہ سے مروی ہے کہ شب قدر آخری عشرے میں منتقل ہوتی رہتی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرتے اور فرماتے: ” شب قدر کو رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 792]
1؎:
شب قدر کی تعیین کے سلسلہ میں علماء کے چالیس سے زائد اقوال منقول ہیں، ان میں سے راجح قول یہی ہے کہ یہ رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے بغیر تعیین کے کوئی رات ہے، بعض روایتوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ رات آپ کو بتا دی گئی تھی لیکن پھر بھلا دی گئی، اس میں مصلحت یہ تھی کہ لوگ اس رات کی تلاش میں زیادہ سے زیادہ عبادت اور ذکر الٰہی میں مشغول رہیں۔
(1)
مختلف احادیث میں شب قدر کے متعلق کچھ نشانیاں بھی بتائی گئی ہیں لیکن ان نشانیوں کا تعلق شب قدر کے گزرنے کے بعد سے ہے مگر یہ نشانیاں امکان کے طور پر ہیں بطور شرط کے نہیں، مثلاً: ایک نشانی بارش کا ہونا بھی بتایا گیا ہے مگر کتنے ہی رمضان ایسے گزر جاتے ہیں کہ ان میں بارش نہیں ہوتی، حالانکہ ان میں لیلۃ القدر کا ہونا برحق اور یقینی ہے۔
ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص نے آخری عشرے کی طاق راتوں میں قیام کیا اور اسے شب قدر کا ادراک بھی ہوا لیکن اس نے اس رات کوئی امر بطور خوارق عادت نہیں دیکھا۔
اس بنا پر ہمارا اعتقاد ہے کہ لیلۃ القدر کے پانے کے لیے خرق عادت چیز کا پانا یا دیکھنا ضروری نہیں۔
ہم یہ عقیدہ نہیں رکھتے کہ شب قدر وہی شخص حاصل کر سکتا ہے جو کوئی خرق عادت امر دیکھے، اللہ کا فضل و کرم بہت وسیع ہے وہ اس طرح کے کاموں کا محتاج نہیں۔
(2)
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی: اللہ کے رسول! اگر مجھے معلوم ہو جائے کہ یہ شب قدر ہے تو میں کیا پڑھوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ دعا پڑھو: (اللهم إنكَ عفو تحبُ العفوَ فاعفُ عَنِي)
’’اے اللہ! تو بہت معاف کرنے والا ہے۔
تو معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، لہذا مجھے معاف کر دے۔
‘‘ (مسندأحمد: 171/6)
(1)
آخری عشرے کی طاق راتیں یہ ہیں: 21، 23، 25، 27، 29۔
رسول اللہ ﷺ کے فرمان کے مطابق شب قدر عموماً ان راتوں میں ہوتی ہے لیکن اس کی تعیین نہیں ہے۔
اس کی تعیین نہ ہونے میں بھی ہماری ہی بھلائی ہے کہ ہم ان راتوں میں اللہ کی عبادت کریں۔
اگر ہم نے ان راتوں میں عبادت کی لیکن شب قدر کا احساس یا ادراک نہ بھی ہوا تو بھی ہم اس کے ثواب اور اس کی خیروبرکت سے محروم نہیں ہوں گے۔
(2)
حافظ ابن حجر ؒ نے لکھا ہے کہ شب قدر رمضان ہی میں ہوتی ہے، پھر اس کا امکان آخری عشرے میں ہے، اس کے بعد آخری عشرے کی طاق راتوں میں اسے تلاش کیا جائے لیکن اس کا تعیین کسی خاص تاریخ سے نہیں کیا جا سکتا۔
اس سلسلے میں آنے والی جملہ احادیث سے یہی کچھ معلوم ہوتا ہے۔
(فتح الباري: 330/4)
التمسوا، تحروا: دونوں کا ایک ہی معنی ہے۔