سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ الصَّائِمِ إِذَا أُكِلَ عِنْدَهُ باب: روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے۔
حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْلَى، عَنْ مَوْلَاتِهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الصَّائِمُ إِذَا أَكَلَ عِنْدَهُ الْمَفَاطِيرُ صَلَّتْ عَلَيْهِ الْمَلَائِكَةُ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَرَوَى شُعْبَةُ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْلَى، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ عُمَارَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´لیلیٰ کی مالکن ( ام عمارہ ) سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں ، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : شعبہ نے بھی یہ حدیث بطریق : «حبيب بن زيد عن ليلى عن جدته أم عمارة عن النبي صلى الله عليه وسلم» سے اسی طرح روایت کی ہے ( جو آگے آ رہی ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے۔`
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 784]
لیلیٰ کی مالکن (ام عمارہ) سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کے پاس جب افطار کی چیزیں کھائی جاتی ہیں، تو فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 784]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 784 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 785 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´روزہ دار کی فضیلت کا بیان جب اس کے پاس کھایا جائے۔`
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ” تم بھی کھاؤ “، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں۔“ بعض روایتوں میں ہے ” جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 785]
ام عمارہ بنت کعب انصاریہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، انہوں نے آپ کو کھانا پیش کیا، تو آپ نے فرمایا: ” تم بھی کھاؤ “، انہوں نے کہا: میں روزہ سے ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” روزہ دار کے لیے فرشتے استغفار کرتے رہتے ہیں، جب اس کے پاس کھایا جاتا ہے جب تک کہ کھانے والے فارغ نہ ہو جائیں۔“ بعض روایتوں میں ہے ” جب تک کہ وہ آسودہ نہ ہو جائیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 785]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)
نوٹ:
(سند میں لیلیٰ مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 785 سے ماخوذ ہے۔