سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّوْمِ فِي أَيَّامِ التَّشْرِيقِ باب: ایام تشریق میں روزہ رکھنے کی حرمت کا بیان۔
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَوْمُ عَرَفَةَ وَيَوْمُ النَّحْرِ وَأَيَّامُ التَّشْرِيقِ عِيدُنَا أَهْلَ الْإِسْلَامِ ، وَهِيَ أَيَّامُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ ، وَسَعْدٍ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَجَابِرٍ ، وَنُبَيْشَةَ ، وَبِشْرِ بْنِ سُحَيْمٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَحَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ ، وَكَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، وَعَائِشَةَ ، وَعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ يَكْرَهُونَ الصِّيَامَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ ، إِلَّا أَنَّ قَوْمًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ رَخَّصُوا لِلْمُتَمَتِّعِ إِذَا لَمْ يَجِدْ هَدْيًا وَلَمْ يَصُمْ فِي الْعَشْرِ أَنْ يَصُومَ أَيَّامَ التَّشْرِيقِ ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ : مُوسَى بْنُ عَلِيِّ بْنِ رَبَاحٍ ، وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ : مُوسَى بْنُ عُلِيٍّ ، وقَالَ : سَمِعْت قُتَيْبَةَ ، يَقُولُ : سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ ، يَقُولُ : قَالَ مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ : لَا أَجْعَلُ أَحَدًا فِي حِلٍّ صَغَّرَ اسْمَ أَبِي .´عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” یوم عرفہ ۱؎ ، یوم نحر ۲؎ اور ایام تشریق ۳؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں ، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں علی ، سعد ، ابوہریرہ ، جابر ، نبیشہ ، بشر بن سحیم ، عبداللہ بن حذافہ ، انس ، حمزہ بن عمرو اسلمی ، کعب بن مالک ، عائشہ ، عمرو بن العاص اور عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ ایام تشریق میں روزہ رکھنے کو حرام قرار دیتے ہیں ۔ البتہ صحابہ کرام وغیرہم کی ایک جماعت نے حج تمتع کرنے والے کو اس کی رخصت دی ہے جب وہ ہدی نہ پائے اور اس نے ذی الحجہ کے ابتدائی دس دن میں روزہ نہ رکھے ہوں کہ وہ ایام تشریق میں روزہ رکھے ۔ مالک بن انس ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔
۲؎ قربانی کا دن یعنی دسویں ذی الحجہ۔
۳؎ ایام تشریق سے مراد گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوم عرفہ ۱؎، یوم نحر ۲؎ اور ایام تشریق ۳؎ ہماری یعنی اہل اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 773]
1؎:
یوم عرفہ سے مراد وہ دن ہے جس میں حاجی میدان عرفات میں ہوتے ہیں یعنی نویں ذی الحجہ بمطابق رؤیت مکہ مکرمہ۔
2؎:
قربانی کا دن یعنی دسویں ذی الحجہ۔
3؎:
ایام تشریق سے مراد گیارہویں، بارہویں اور تیرہویں ذی الحجہ ہے۔
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوم عرفہ یوم النحر اور ایام تشریق ہم اہل اسلام کی عید ہے، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔“ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2419]
ایام تشریق اصلا، عید ہی کے ایام ہیں۔
ان میں عام نفلی روزہ رکھنا جائز نہیں۔
البتہ حج تمتع والا اگر قربانی کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو اس پر دس روزے لازم آتے ہیں۔
تین دن ایام حج میں اور سات گھر واپس آ کر۔
چنانچہ اس کو رخصت ہے کہ ایام تشریق میں یہ روزے رکھ لے۔
سورہ بقرہ میں ہے: (فَمَن تَمَتَّعَ بِٱلْعُمْرَةِ إِلَى ٱلْحَجِّ فَمَا ٱسْتَيْسَرَ مِنَ ٱلْهَدْىِ ۚ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَـٰثَةِ أَيَّامٍ فِى ٱلْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ ۗ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ) (البقرة: 196) البتہ اس میں یوم عرفہ کا جو ذکر ہے کہ اس دن بھی روزہ رکھنا صحیح نہیں ہے، تو یہ بات حاجیوں کے لیے ہے۔
ان کے لیے روزہ نہ رکھنا بہتر ہے، تاکہ وہ عرفات میں وقوف کی عبادت صحیح طریقے سے کر سکیں۔
لیکن غیر حاجیوں کے لیے یوم عرفہ (9ذوالحجہ) کے روزے کی یہی فضیلت ہے کہ ان کے لیے یہ دو سال کے گناہوں کا کفارہ ہے۔
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” یوم عرفہ یوم نحر اور ایام تشریق (۱۱، ۱۲، ۱۳ ذی الحجہ کے دن) ہم اہل اسلام کی عید ہیں اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں ۱؎۔“ [سنن نسائي/كتاب مناسك الحج/حدیث: 3007]
(2) ایام تشریق کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ان دنوں لوگ قربانی کا گوشت باریک بنا کر دھوپ میں سکھاتے تھے تاکہ خراب نہ ہو اور بعد میں کام آسکے۔ گوشت کو باریک کر کے دھوپ میں سکھانا عربی زبان میں ”تشریق“ کہلاتا ہے۔