سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب كَرَاهِيَةِ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، وَإِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : سُئِلَ ابْنُ عُمَرَ، عَنْ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ ، فَقَالَ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَأَنَا لَا أَصُومُهُ وَلَا آمُرُ بِهِ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبُو نَجِيحٍ اسْمُهُ يَسَارٌ ، وَقَدْ سَمِعَ مِنْ ابْنِ عُمَرَ .´ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ` ابن عمر رضی الله عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا ۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا ، انہوں نے بھی نہیں رکھا ، عمر کے ساتھ کیا ۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا ۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا ( رضی الله عنہم ) ، میں بھی اس دن ( وہاں عرفات میں ) روزہ نہیں رکھتا ہوں ، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن ہے ، ۲- یہ حدیث ابن ابی نجیح سے بطریق : «عن أبيه عن رجل عن ابن عمر» بھی مروی ہے ۔ ابونجیح کا نام یسار ہے اور انہوں نے ابن عمر سے سنا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابونجیح یسار کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی الله عنہما سے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا۔ آپ نے اس دن کا روزہ نہیں رکھا۔ ابوبکر کے ساتھ حج کیا، انہوں نے بھی نہیں رکھا، عمر کے ساتھ کیا۔ انہوں نے بھی نہیں رکھا۔ عثمان کے ساتھ کیا تو انہوں نے بھی نہیں رکھا (رضی الله عنہم)، میں بھی اس دن (وہاں عرفات میں) روزہ نہیں رکھتا ہوں، البتہ نہ تو میں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ ہی اس سے روکتا ہوں۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 751]
1؎:
اس کا مطلب یہ ہے کہ ابو نجیح نے اس حدیث کو پہلے ابن عمرسے ایک آدمی کے واسطے سے سنا تھا پھر بعد میں ابن عمر سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے اسے براہ راست بغیر واسطے کے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا۔