سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب كَرَاهِيَةِ صَوْمِ يَوْمِ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ باب: میدان عرفات میں یوم عرفہ کے روزے کی کراہت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَفْطَرَ بِعَرَفَةَ ، وَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ أُمُّ الْفَضْلِ بِلَبَنٍ فَشَرِبَ " . وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأُمِّ الْفَضْلِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : حَجَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَصُمْهُ يَعْنِي يَوْمَ عَرَفَةَ ، وَمَعَ أَبِي بَكْرٍ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُمَرَ فَلَمْ يَصُمْهُ ، وَمَعَ عُثْمَانَ فَلَمْ يَصُمْهُ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَسْتَحِبُّونَ الْإِفْطَارَ بِعَرَفَةَ لِيَتَقَوَّى بِهِ الرَّجُلُ عَلَى الدُّعَاءِ ، وَقَدْ صَامَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ يَوْمَ عَرَفَةَ بِعَرَفَةَ .´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں روزہ نہیں رکھا ، ام فضل رضی الله عنہا نے آپ کے پاس دودھ بھیجا تو آپ نے اسے پیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوہریرہ ، ابن عمر اور ام الفضل رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- ابن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا تو آپ نے اس دن کا ( یعنی یوم عرفہ کا ) روزہ نہیں رکھا اور ابوبکر رضی الله عنہ کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا ، عمر کے ساتھ حج کیا ، تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا ، اور عثمان کے ساتھ حج کیا تو انہوں نے بھی اسے نہیں رکھا ، ۴- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ۔ یہ لوگ عرفات میں روزہ نہ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں تاکہ آدمی دعا کی زیادہ سے زیادہ قدرت رکھ سکے ، ۵- اور بعض اہل علم نے عرفہ کے دن عرفات میں روزہ رکھا ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس حدیث میں ہے کہ عرفات کے دن کا روزہ حاجی حضرات، جو میدان عرفات میں ہوں نہیں رکھیں گے، ان کے علاوہ دیگر امت مسلمہ یوم عرفہ نو ذوالحجہ کا روزہ رکھے گی، اس روزے کی بہت زیادہ فضیلت وارد ہوئی ہے، سیدنا ابوقتادہ انصاری رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یوم عرفہ کے روزے کے متعلق دریافت کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ گزشتہ سال اور آئندہ سال کے گناہ مٹا دیتا ہے “۔ [صحيح مسلم: 1162]