حدیث نمبر: 742
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، وَطَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ مِنْ غُرَّةِ كُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ ، وَقَلَّمَا كَانَ يُفْطِرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدِ اسْتَحَبَّ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ صِيَامَ يَوْمِ الْجُمُعَةِ ، وَإِنَّمَا يُكْرَهُ أَنْ يَصُومَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ لَا يَصُومُ قَبْلَهُ وَلَا بَعْدَهُ ، قَالَ : وَرَوَى شُعْبَةُ ، عَنْ عَاصِمٍ هَذَا الْحَدِيثَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ماہ کے شروع کے تین دن روزے رکھتے ۔ اور ایسا کم ہوتا تھا کہ جمعہ کے دن آپ روزے سے نہ ہوں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- شعبہ نے یہ حدیث عاصم سے روایت کی ہے اور اسے مرفوع نہیں کیا ، ۳- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۴- اہل علم کی ایک جماعت نے جمعہ کے دن روزہ رکھنے کو مستحب قرار دیا ہے ۔ مکروہ یہ ہے کہ آدمی صرف جمعہ کو روزہ رکھے نہ اس سے پہلے رکھے اور نہ اس کے بعد ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 742
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن تخريج المشكاة (2058) ، التعليق على ابن خزيمة (2149) ، صحيح أبي داود (2116) , شیخ زبیر علی زئی: (746) إسناده ضعيف, خيثمة بن عبدالرحمن كم يسمع من عائشه رضي الله عنها (د 2128)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصیام 68 (2450) ( تحفة الأشراف : 9206) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2450 | سنن نسائي: 2370

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2450 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´ہر مہینے تین روزے رکھنے کا بیان۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے شروع میں تین دن روزے رکھتے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2450]
فوائد ومسائل:
ایام بیض کی فضیلت ثابت ہے۔
اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بعض اوقات بلا تعیین و تخصیص تین روزے رکھا کرتے تھے، تاکہ وجوب نہ سمجھا جائے۔
اس طرح بعض دفعہ آپ مہینے کی ابتدا میں تین روزے رکھتے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے علم میں آپ کے یہی ابتدائی دن آئے، چنانچہ انہوں نے اس کے مطابق بیان کر دیا۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علم میں آپ کے ایام بیض کے روزے تھے جو آپ اکثر رکھا کرتے تھے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نےاس کے مطابق بیان کر دیا۔
اس لیے ان دونوں کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2450 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2370 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم (میرے باپ ماں آپ پر فدا ہوں) کا روزہ اور اس سلسلہ میں ناقلین حدیث کے اختلاف کا ذکر۔`
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر مہینے کے ابتدائی تین دنوں میں روزہ رکھتے تھے اور کم ہی ایسا ہوتا کہ آپ جمعہ کے دن روزہ سے نہ رہے ہوں ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2370]
اردو حاشہ: (1) شروع سے یعنی کسی مہینے میں۔ اور بعض اوقات درمیان سے تین دن روزہ رکھتے تھے اور کبھی آخر مہینے سے بھی رکھ لیتے تھے۔
(2) جمعۃ المبارک کے دن۔ یعنی جمعرات سمیت، ورنہ اکیلے جمعے کے روزے سے تو آپ نے منع فرمایا ہے۔ دیکھیے: (صحیح البخاري، الصوم، حدیث: 1985، وصحیح مسلم، الصیام، حدیث: 1144) جمعرات کا روزہ آپ کا معمول تھا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2370 سے ماخوذ ہے۔