حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ : سَأَلَهُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ لَهُ : مَا سَمِعْتُ أَحَدًا يَسْأَلُ عَنْ هَذَا إِلَّا رَجُلًا سَمِعْتُهُ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَهْرٍ تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ ؟ قَالَ : " إِنْ كُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ فَصُمْ الْمُحَرَّمَ ، فَإِنَّهُ شَهْرُ اللَّهِ ، فِيهِ يَوْمٌ تَابَ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ ، وَيَتُوبُ فِيهِ عَلَى قَوْمٍ آخَرِينَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے ان سے پوچھا : ماہ رمضان کے بعد کس مہینے میں روزہ رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں ؟ تو انہوں نے اس سے کہا : میں نے اس سلسلے میں سوائے ایک شخص کے کسی کو پوچھتے نہیں سنا ، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا ، اور میں آپ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! ماہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : ” اگر ماہ رمضان کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہی ہو تو محرم کا روزہ رکھو ، وہ اللہ کا مہینہ ہے ۔ اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے کچھ لوگوں پر رحمت کی ۱؎ اور اس میں دوسرے لوگوں پر بھی رحمت کرے گا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 741
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، التعليق الرغيب (2 / 77) // ضعيف الجامع الصغير (1298) // , شیخ زبیر علی زئی: (741) إسناده ضعيف, عبدالرحمن بن إسحاق الكوفي: ضعيف (د 756)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 10295) (ضعیف) (سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں، اور ان سے روایت کرنے والے ’’ عبدالرحمن بن اسحاق بن الحارث ابو شیبہ ‘‘ ضعیف ہیں)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´محرم کے روزے کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے ان سے پوچھا: ماہ رمضان کے بعد کس مہینے میں روزہ رکھنے کا آپ مجھے حکم دیتے ہیں؟ تو انہوں نے اس سے کہا: میں نے اس سلسلے میں سوائے ایک شخص کے کسی کو پوچھتے نہیں سنا، میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کرتے سنا، اور میں آپ کے پاس ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پوچھا: اللہ کے رسول! ماہ رمضان کے بعد آپ مجھے کس مہینے میں روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر ماہ رمضان کے بعد تمہیں روزہ رکھنا ہی ہو تو محرم کا روزہ رکھو، وہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے جس میں اللہ نے کچھ لوگوں پر رحمت کی ۱؎ اور اس۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 741]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی بنی اسرائیل کو فرعون کے مظالم سے نجات دی۔

نوٹ:
(سند میں نعمان بن سعد لین الحدیث ہیں، اور ان سے روایت کرنے والے ’’عبدالرحمن بن اسحاق بن الحارث ابو شیبہ‘‘ ضعیف ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 741 سے ماخوذ ہے۔