سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّائِمِ يَأْكُلُ أَوْ يَشْرَبُ نَاسِيًا باب: روزہ دار بھول کر کچھ کھا پی لے تو کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 722
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، وَخَلَّاسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ أَوْ نَحْوَهُ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، وَأُمِّ إِسْحَاق الْغَنَوِيَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ : إِذَا أَكَلَ فِي رَمَضَانَ نَاسِيًا فَعَلَيْهِ الْقَضَاءُ ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ابوہریرہ رضی الله عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابو سعید خدری اور ام اسحاق غنویہ رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے ۔ سفیان ثوری ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ، ۴- مالک بن انس کہتے ہیں کہ جب کوئی رمضان میں بھول کر کھا پی لے تو اس پر روزوں کی قضاء لازم ہے ، پہلا قول زیادہ صحیح ہے ۔