حدیث نمبر: 709
وَرُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " فَصْلُ مَا بَيْنَ صِيَامِنَا وَصِيَامِ أَهْلِ الْكِتَابِ أَكْلَةُ السَّحَرِ " . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ . قَالَ : وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَأَهْلُ مِصْرَ يَقُولُونَ : مُوسَى بْنُ عَلِيٍّ ، وَأَهْلُ الْعِرَاقِ يَقُولُونَ : مُوسَى بْنُ عُلَيٍّ وَهُوَ مُوسَى بْنُ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ اللَّخْمِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے عمرو بن عاص رضی الله عنہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اور یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اہل مصر موسى بن عَلِيّ ( عین کے فتحہ کے ساتھ ) : کہتے ہیں اور اہل عراق موسى بن عُليّ ( عین کے ضمہ کے ساتھ ) کہتے ہیں اور وہ موسیٰ بن عُلَيّ بن رباح اللخمی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 709
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح حجاب المرأة المسلمة (88) ، صحيح أبي داود (2029)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الصوم 9 (1096) ، سنن ابی داود/ الصیام 15 (2343) ، سنن النسائی/الصیام 27 (2168) ، ( تحفة الأشراف : 10749) ، مسند احمد (4/197) ، سنن الدارمی/الصوم 9 (1738) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 2168 | صحيح مسلم: 1096 | سنن ابي داود: 2343

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 2168 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ہمارے (مسلمانوں) اور اہل کتاب کے روزہ میں فرق کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے صیام میں جو فرق ہے، (وہ ہے) سحری کھانا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2168]
اردو حاشہ: فوائد کے لیے دیکھیے‘حدیث:2164۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 2168 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2343 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سحری کھانے کی تاکید کا بیان۔`
عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے اور اہل کتاب کے روزے میں سحری کھانے کا فرق ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2343]
فوائد ومسائل:
مسلمان کی زندگی کے تمام امور... عبادات و معاملات... نیت صالحہ پر مبنی ہونے چاہئیں۔
روزے میں صبح کا کھانا محض اس فکر سے نہیں کھانا چاہیے کہ سارا دن بھوک اور پیاس برداشت کرنی ہے۔
بلکہ اس نیت سے کھانا چاہیے کہ اللہ کی اطاعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے، نیز اہل کتاب سے امتیاز بھی ہے۔
اور یہی شرح ہے اس معروف حدیث کی یعنی (إنَّمَا الأَعْمالُ بِالنياتِ) نیت صالحہ و طیبہ سے عمل کے اجر میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے۔
اور شریعت کا اہم مطالبہ بھی ہے کہ مسلمان ملی طور پر دوسری امتون سے اپنی امتوں سے اپنی عبادات میں بھی منفرد ہوں اور عادات میں بھی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2343 سے ماخوذ ہے۔