حدیث نمبر: 705
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا مُلَازِمُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ النُّعْمَانِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ طَلْقٍ، حَدَّثَنِي أَبِي طَلْقُ بْنُ عَلِيٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كُلُوا وَاشْرَبُوا وَلَا يَهِيدَنَّكُمُ السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ ، وَكُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَعْتَرِضَ لَكُمُ الْأَحْمَرُ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَسَمُرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّهُ لَا يَحْرُمُ عَلَى الصَّائِمِ الْأَكْلُ وَالشُّرْبُ حَتَّى يَكُونَ الْفَجْرُ الْأَحْمَرُ الْمُعْتَرِضُ . وَبِهِ يَقُولُ عَامَّةُ أَهْلِ الْعِلْمِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قیس بن طلق کہتے ہیں کہ` مجھ سے میرے باپ طلق بن علی رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کھاؤ پیو ، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ۱؎ کھاتے پیتے رہو ، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہو جائے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- طلق بن علی رضی الله عنہ کی حدیث اس سند سے حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں عدی بن حاتم ، ابوذر اور سمرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اسی پر اہل علم کا عمل ہے کہ صائم پر کھانا پینا حرام نہیں ہوتا جب تک کہ فجر کی سرخ چوڑی روشنی نمودار نہ ہو جائے ، اور یہی اکثر اہل علم کا قول ہے ۔

وضاحت:
۱؎: «الساطع المصعد» سے مراد فجر کاذب ہے اور «الاحمر» سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ «الاحمر» کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ (سرخی) آ جاتی ہے پس فجر تحقق کو «الاحمر» کہہ دیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 705
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن صحيح، صحيح أبي داود (2033)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصیام 17 (2348) ( تحفة الأشراف : 5025) (حسن صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2348

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صبح صادق کے واضح ہو جانے کا بیان۔`
قیس بن طلق کہتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ طلق بن علی رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، تمہیں کھانے پینے سے چمکتی اور چڑھتی ہوئی صبح یعنی صبح کاذب نہ روکے ۱؎ کھاتے پیتے رہو، یہاں تک کہ سرخی تمہارے چوڑان میں ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 705]
اردو حاشہ:
1؎: ((السَّاطِعُ الْمُصْعِدُ)) سے مراد فجر کاذب ہے اور ((الْأَحْمَرُ)) سے مراد صبح صادق، اس حدیث سے بعض لوگوں نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ فجر کے ظاہر ہونے تک کھانا پینا جائز ہے، مگر جمہور کہتے ہیں کہ فجر کے متحقق ہوتے ہی کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے اور اس روایت کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ((الْأَحْمَرُ)) کہنا مجاورت کی بنا پر ہے کیونکہ فجر کے طلوع کے ساتھ حمرہ (سرخی) آجاتی ہے پس فجرتحقق کو ((الْأَحْمَرُ)) کہہ دیا گیا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 705 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2348 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´سحری کھانے کے وقت کا بیان۔`
طلق رضی اللہ عنہ سے کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کھاؤ پیو، اور اوپر کو چڑھنے والی روشنی تمہیں کھانے پینے سے قطعاً نہ روکے اس وقت تک کھاؤ، پیو جب تک کہ سرخی چوڑائی میں نہ پھیل جائے یعنی صبح صادق نہ ہو جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2348]
فوائد ومسائل:
صحیح بات یہ ہے کہ اطراف میں سفیدی پھیلنے لگے۔
تاہم بعض دفعہ موسم ابر آلود ہو، پھر سرخی سی بھی پھیلتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن عام حالات میں سفیدی ہی پھیلتی ہے، نہ کہ سرخی۔

درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2348 سے ماخوذ ہے۔