سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَأْخِيرِ السُّحُورِ باب: سحری تاخیر سے کھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 704
حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامٍ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : قَدْرُ قِرَاءَةِ خَمْسِينَ آيَةً . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ حُذَيْفَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق : اسْتَحَبُّوا تَأْخِيرَ السُّحُورِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` ہشام سے اسی طرح مروی ہے البتہ اس میں یوں ہے : پچاس آیتوں کے پڑھنے کے بقدر ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں حذیفہ رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے ، ۳- یہی شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے ، ان لوگوں نے سحری میں دیر کرنے کو پسند کیا ہے ۔