سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي تَعْجِيلِ الإِفْطَارِ باب: افطار میں جلدی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 701
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، وَأَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´افطار میں جلدی کرنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 701]
اس سند سے بھی اوزاعی سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 701]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سابقہ حدیث کے رواۃ اس میں بھی ہیں)
نوٹ:
(سابقہ حدیث کے رواۃ اس میں بھی ہیں)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 701 سے ماخوذ ہے۔