سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ باب: جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے۔
حدیث نمبر: 698
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ وَأَدْبَرَ النَّهَارُ وَغَابَتِ الشَّمْسُ فَقَدْ أَفْطَرْتَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ أَبِي أَوْفَى ، وَأَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب رات آ جائے ، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عمر رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابن ابی اوفی اور ابو سعید خدری سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: ”تم نے افطار کر لیا“ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صادق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جب رات آ جائے اور دن چلا جائے یعنی سورج ڈوب جائے تو صائم افطار کرے۔`
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رات آ جائے، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 698]
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رات آ جائے، اور دن چلا جائے اور سورج ڈوب جائے تو تم نے افطار کر لیا “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 698]
اردو حاشہ:
1؎:
’’تم نے افطار کر لیا‘‘ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صاد ق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
1؎:
’’تم نے افطار کر لیا‘‘ کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ تمہارے روزہ کھولنے کا وقت ہو گیا، اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم شرعاً روزہ کھولنے والے ہو گئے خواہ تم نے کچھ کھایا پیا نہ ہو کیونکہ سورج ڈوبتے ہی روزہ اپنے اختتام کو پہنچ گیا اس میں روزہ کے وقت کا تعین کر دیا گیا ہے کہ وہ صبح صاد ق سے سورج ڈوبنے تک ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 698 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 1954 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
1954. حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے، انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جب ادھر سے رات آجائے اور ادھر سے دن چلا جائے، نیز سورج غروب ہوجائے تو روزہ دار اپنا روزہ افطار کردے۔‘‘[صحيح بخاري، حديث نمبر:1954]
حدیث حاشیہ: حدیث اور باب میں مطابقت ظاہر ہے، حضرت سفیان بن عیینہ جو یہاں بھی سند میں آئے ہیں 107ھ میں ماہ شعبان میں کوفہ میں ان کی ولادت ہوئی۔
امام، عالم، زاہد، پرہیزگار تھے، ان پر جملہ محدثین کا اعتماد تھا۔
جن کا متفقہ قول ہے کہ اگر امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم نابود ہو جاتا۔
198ھ میں یکم رجب کو مکہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا اور حجون میں دفن کئے گئے انہوں نے ستر حج کئے تھے۔
رحمھم اللہ أجمعین (آمین)
امام، عالم، زاہد، پرہیزگار تھے، ان پر جملہ محدثین کا اعتماد تھا۔
جن کا متفقہ قول ہے کہ اگر امام مالک اور سفیان بن عیینہ نہ ہوتے تو حجاز کا علم نابود ہو جاتا۔
198ھ میں یکم رجب کو مکہ مکرمہ میں ان کا انتقال ہوا اور حجون میں دفن کئے گئے انہوں نے ستر حج کئے تھے۔
رحمھم اللہ أجمعین (آمین)
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1954 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1100 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جب رات آ جائے اور دن چلا جائے اور سورج غروب ہو جائے تو روزے دار کے افطار کا وقت ہو گیا‘‘ ابن نمیر نے فقد کا لفظ بیان نہیں کیا یعنی صرف افطر کہا۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:2558]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: جب مشرق میں اندھیرا ہو جائے اور مغرب میں روشنی ختم ہو جائے اور سورج غروب ہو جائے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ روزہ کا وقت پورا ہو گیا اور اب شرعی طور پر روزہ کا اختتام ہوگیا۔
کیونکہ دن جس میں روزہ رکھنا ہوتا ہے اختتام کو پہنچ گیا ہے اس لیے اب روزہ جاری رکھنے کا وقت نہیں رہا۔
اس لیے روزہ دار کو روزہ کھول دینا چاہیے اپنی طرف سے غلو اور افراط کا شکار ہو کر بلاضرورت اور بلاوجہ روزہ برقرار نہیں رکھنا چاہیے جبکہ اس کا وقت ہی باقی نہیں ہے۔
کیونکہ دن جس میں روزہ رکھنا ہوتا ہے اختتام کو پہنچ گیا ہے اس لیے اب روزہ جاری رکھنے کا وقت نہیں رہا۔
اس لیے روزہ دار کو روزہ کھول دینا چاہیے اپنی طرف سے غلو اور افراط کا شکار ہو کر بلاضرورت اور بلاوجہ روزہ برقرار نہیں رکھنا چاہیے جبکہ اس کا وقت ہی باقی نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1100 سے ماخوذ ہے۔