حدیث نمبر: 689
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، أَخْبَرَنِي عِيسَى بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي ضِرَارٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ : " مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْنَا ثَلَاثِينَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَعَائِشَةَ ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَنَسٍ ، وَجَابِرٍ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَأَبِي بَكْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے رکھنے سے زیادہ ۲۹ دن کے روزے رکھے ہیں ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عمر ، ابوہریرہ ، عائشہ ، سعد بن ابی وقاص ، ابن عباس ، ابن عمر ، انس ، جابر ، ام سلمہ اور ابوبکرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مہینہ ۲۹ دن کا ( بھی ) ہوتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 689
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1658)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصوم 4 (2322) ، ( تحفة الأشراف : 9478) ، مسند احمد (1/441) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 2322 | معجم صغير للطبراني: 369

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2322 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´مہینہ انتیس دن کا بھی ہوتا ہے۔`
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیس دن کے روزے کے مقابلے میں انتیس دن کے روزے زیادہ رکھے ہیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2322]
فوائد ومسائل:
(1) انتیس روزے مجموعی لحاظ سے اجر میں تیس ہی کی طرح ہوتے ہیں، کیونکہ اس عمل کی بنیاد اخلاص اور اطاعت پر ہے۔

(2) (لما صمنا) میں ما موصولہ یا مصدریہ ہے۔
(عون المعبود)
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2322 سے ماخوذ ہے۔