سنن ترمذي
كتاب الصيام عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: روزوں کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي فَضْلِ شَهْرِ رَمَضَانَ باب: ماہ رمضان کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا كَانَ أَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ ، صُفِّدَتِ الشَّيَاطِينُ وَمَرَدَةُ الْجِنِّ ، وَغُلِّقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ فَلَمْ يُفْتَحْ مِنْهَا بَاب ، وَفُتِّحَتْ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ فَلَمْ يُغْلَقْ مِنْهَا بَاب ، وَيُنَادِي مُنَادٍ يَا بَاغِيَ الْخَيْرِ أَقْبِلْ ، وَيَا بَاغِيَ الشَّرِّ أَقْصِرْ ، وَلِلَّهِ عُتَقَاءُ مِنَ النَّارِ وَذَلكَ كُلُّ لَيْلَةٍ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، وَابْنِ مَسْعُودٍ ، وَسَلْمَانَ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے ، تو شیطان اور سرکش جن ۱؎ جکڑ دیئے جاتے ہیں ، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا ۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا ، پکارنے والا پکارتا ہے : خیر کے طلب گار ! آگے بڑھ ، اور شر کے طلب گار ! رک جا ۲؎ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں ( تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو ) اور ایسا ( رمضان کی ) ہر رات کو ہوتا ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس باب میں عبدالرحمٰن بن عوف ، ابن مسعود اور سلمان رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
۲؎: اسی ندا کا اثر ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی نیکیوں کی جانب توجہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن ذکر و عبادات خیرات اور توبہ واستغفار کا زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ماہ رمضان کی پہلی رات آتی ہے، تو شیطان اور سرکش جن ۱؎ جکڑ دیئے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ کھولا نہیں جاتا۔ اور جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، ان میں سے کوئی بھی دروازہ بند نہیں کیا جاتا، پکارنے والا پکارتا ہے: خیر کے طلب گار! آگے بڑھ، اور شر کے طلب گار! رک جا ۲؎ اور آگ سے اللہ کے بہت سے آزاد کئے ہوئے بندے ہیں (تو ہو سکتا ہے کہ تو بھی انہیں میں سے ہو) اور ایسا (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب الصيام/حدیث: 682]
2؎:
اسی ندا کا اثر ہے کہ رمضان میں اہل ایمان کی نیکیوں کی جانب توجہ بڑھ جاتی ہے اور وہ اس ماہ مبارک میں تلاوت قرآن ذکر و عبادات خیرات اور توبہ و استغفار کا زیادہ اہتمام کرنے لگتے ہیں۔
1۔
اس حدیث میں اہل ایمان کے لیے ایک فضیلت کا بیان ہے کہ ان کے لیے جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں کہ مرتے ہی جنت میں پہنچ جائیں گے۔
اس کے لیے عقیدے کی درستی اور اعمال کا سنت کے مطابق ہونا بنیادی شرط ہے۔
اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ جو بھی اس مہینے میں مر جائے اس کا حساب کتاب نہیں ہوتا بلکہ وہ سیدھاجنت میں پہنچ جاتا ہے۔
اس خود ساختہ فارمولے کے مطابق ابو جہل ملعون اور اس کے بدبخت ساتھیوں کا حساب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ رمضان میں مرے تھے لیکن ان کا حساب تو مرتے ہی شروع ہو گیا تھا جب انھیں گھسیٹ کر میدان بدر کے ایک اندھے کنویں میں ڈال دیا گیا تھا۔
2۔
امام بخاری ؒ کا اس حدیث سے یہ مقصود ہے کہ ماہ رمضان کے حوالے سے شیطان کے ایک وصف سے آگاہ کر دیا جائے کہ اسے پابند سلال کردیا جاتا ہے البتہ جن لوگوں کے اپنے نفس ہی شیطان بن چکے ہیں۔
وہ اس میں شامل نہیں ہیں۔
(1)
اس عنوان اور پیش کردہ احادیث سے امام بخاری نے ایک حدیث کے ضعیف ہونے کی طرف اشارہ کیا ہے جسے ابن عدی نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے مرفوعا بیان کیا ہے کہ رمضان مت کہو کیونکہ رمضان، اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہے۔
اس کی سند میں ابو معشر نامی راوی ضعیف ہے۔
ان احادیث میں لفظ رمضان مجرد استعمال ہوا ہے ان میں اس کے ساتھ شهر وغیرہ استعمال نہیں ہوا جبکہ شهر رمضان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں استعمال کیا ہے۔
ثابت ہوا کہ دونوں طرح اس مہینے کا نام لیا جا سکتا ہے۔
(2)
امام نسائی نے اپنی سنن میں ایک عنوان بایں الفاظ قائم کیا ہے: (الرخصة في أن يقال لشهر رمضان رمضان)
’’شہر رمضان کو صرف رمضان کہنے کی رخصت کا بیان۔
‘‘ پھر انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ایک حدیث بیان کی ہے کہ رمضان میں عمرہ کرنے کا حج کے برابر ثواب ملتا ہے، (سنن النسائي، الصیام، حدیث: 2112)
بہرحال جمہور اس کے جواز کے قائل ہیں۔
(3)
ماہ رمضان کو رمضان کہنے کی حسب ذیل دو وجوہات ہیں: ٭ رمضاء شدت گرمی کو کہتے ہیں۔
اس مہینے میں روزہ رکھنے سے گناہ جل جاتے ہیں۔
٭ رمضان میں روزوں کی ابتدا سخت گرمی کے دنوں میں ہوئی تھی۔
(فتح الباري: 146/4) (4)
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ رمضان میں جب شیاطین کو پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے تو روئے زمین پر اس ماہ مبارک میں نافرمانی کیوں ہوتی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اولاد آدم کو گمراہ کرنے والی کئی قوتیں متحرک ہیں صرف ایک قوت کو بے بس کر دیا جاتا ہے باقی قوتیں مسلسل اپنے کام میں مصروف رہتی ہیں۔
حدیث اور باب میں یہی مطابقت ہے۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رمضان آتا ہے تو رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2102]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” رمضان کا مبارک مہینہ تمہارے پاس آ چکا ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر اس کے روزے فرض کر دیئے ہیں، اس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور سرکش شیاطین کو بیڑیاں پہنا دی جاتی ہیں، اور اس میں اللہ تعالیٰ کے لیے ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے، جو اس کے خیر سے محروم رہا تو وہ بس محروم ہی رہا۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2108]
(2) ”آسمان کے دروازے“ ماہ رمضان کے استقبال کے لیے، یا اہل ایمان کے اعمال صالحہ کی وصولی کے لیے، یا اس سے اعمال صالحہ کی کثرت مراد ہے کہ سب دروازے کھولنے پڑتے ہیں کیونکہ کمزور سے کمزور ایمان والا شخص بھی اس میں کچھ نہ کچھ اعمال صالحہ کرتا ہے۔
(3) ”جہنم یا آگ کے دروازے“ رمضان کے استقبال کے لیے احتراماً، جیسے کسی معزز شخصیت کے آنے پر ناپسندیدہ چیزوں کو ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ یا مراد ہے کہ عذاب قبر موقوف ہو جاتا ہے لیکن یہ سب کچھ مومنین کے لیے ہے، کفار کے لیے سب کچھ کھلا رہتا ہے۔
(4) ”سرکش جن“ یعنی بڑے بڑے شیطان جکڑ دیے جاتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے شتونگڑے کھلے رہتے ہیں، تبھی کچھ نہ کچھ گناہ ہوتے رہتے ہیں۔ ویسے سب گناہ شیاطین ہی کی وجہ سے نہیں ہوتے، انسان کا اپنا نفس بھی تو شیطان بن جاتا ہے، لہٰذا باوجود شیاطین کے جکڑے جانے کے گناہوں کا عادی نفس گناہ میں جاری رہتا ہے۔
(5) ”ہزار مہینے سے بہتر ہے۔“ یعنی اس رات میں عبادت عام دنوں کے ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے اور یہ مومنین کے لیے اللہ تعالیٰ کی خصوصی رحمت ہے۔ اور یہ رات ہمیشہ کے لیے ایک مقررہ رات نہیں بلکہ یہ آخری عشرے کی طاق راتوں میں بدل بدل کر آتی ہے تاکہ لوگوں میں عبادت کا ذوق بڑھے اور وہ متعدد راتوں میں قیام کریں۔
سوال: حدیث میں آیا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں شیاطین کو باندھ دیا جاتا ہے جبکہ قرآن مجید، سورۃ الانفال (48) سے ثابت ہوتا ہے کہ غزوۂ بدر (رمضان) میں شیطان اپنے پیروکاروں (مشرکین مکہ) کے ساتھ بطور مددگار آیا تھا، پھر بھاگ گیا۔ حدیث اور قرآن میں کیا تطبیق ممکن ہے؟
الجواب: شیاطین کی تین قسمیں ہیں: 1- بڑا شیطان یعنی ابلیس: جس نے آدم علیہ السلام کو سجدہ نہیں کیا تھا۔
2- مردۃ الشیاطین: انتہائی سرکش شیاطین (جو کہ دوسرے شیطانوں کے سردار ہیں)
3- عام شیاطین
٭ بڑے شیطان یعنی ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے قیامت تک کی مہلت مانگی اور اللہ تعالیٰ نے اسے یہ مہلت دے دی ہے جیسا کہ قرآن مجید سے ثابت ہے۔ [سورة الاعراف:14۔18]
لہٰذا ابلیس کو رمضان میں باندھا نہیں جاتا۔
ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وَتُغَلُّ فِيْهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ»
اور رمضان کے مہینے میں مردۃ الشیاطین کو باندھا جاتا ہے۔
[سنن نسائي 4/ 129، ح 2108، وسنده ضعيف، مسند احمد ج 2 ص 230، 385، 425]
اس روایت کے سارے راوی ثقہ ہیں۔ مگر ابو قلابہ تابعی رحمہ اللہ کا سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے۔ [الترغيب والترهيب ج 2 ص 98]
لیکن اس حدیث کے متعدد شواہد ہیں مثلاً: «حديث عتبة بن فرقد وفيه:»
«وَيُصَفَّدُ فِيْهِ كُلُّ شَيْطَانٍ مَرِيدٍ»
اور اس (رمضان) میں ہر شیطان مرید (سرکش شیطان) کو باندھ دیا جاتا ہے۔
[سنن النسائي: 2110، و مسند احمد 4/ 311، 312، واسناده حسن]
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ مردۃ الشیاطین (سرکش شیطانوں) کو رمضان میں باندھ دیا جاتا ہے۔
امام ابن خزیمہ کی بھی یہی تحقیق ہے۔ [صحيح ابن خزيمه ج3ص 188، قبل ح 1883]
یہ ثابت شدہ حقیقت ہے کہ خاص عام پر اور مقید مطلق پر مقدم ہوتا ہے۔
عام شیاطین کے باندھے جانے کے بارے میں کوئی صریح دلیل میرے علم میں نہیں ہے۔ اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرآن اور حدیث میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ والحمدللہ
……………… اصل مضمون ………………
اصل مضمون کے لئے دیکھئے فتاویٰ علمیہ للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ (جلد 2 صفحہ 137 اور 138)
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب ماہ رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔“ ابوعبدالرحمٰن (نسائی) کہتے ہیں: یہ ابن اسحاق (والی) حدیث غلط ہے، اسے ابن اسحاق نے زہری سے نہیں سنا ہے، اور صحیح (روایت) وہ ہے جس کا ذکر ہم (اوپر) کر چکے ہیں۔ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2104]
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، اور شیاطین جکڑ دئیے جاتے ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الصيام/حدیث: 2100]
(2) آگ کے دروازوں سے مراد بھی وہ دونوں معانی ہو سکتے ہیں جو اوپر بیان ہوئے۔
(3) ”شیطان“ حقیقی شیطان یا گمراہی کے اسباب تقریباً ختم ہو جاتے ہیں۔ رمضان المبارک میں عموماً ہر طرف نیکی کا دور دورہ ہوتا ہے اور برائی کرنا مشکل مگر یہ سب کچھ ایمان والوں کے لیے ہے۔ ایمان نہ ہو تو رمضان اور غیر رمضان برابر ہیں۔
(4) جنت اور جہنم کوئی خیالی چیزیں نہیں بلکہ ان کا وجود حقیقی ہے۔ ان کے دروازے بھی ہیں جو کھولے اور بند کیے جاتے ہیں۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب رمضان کی پہلی رات ہوتی ہے تو شیطان اور سرکش جن زنجیروں میں جکڑ دئیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ کھلا ہوا نہیں رہتا، جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، اور اس کا کوئی بھی دروازہ بند نہیں رہتا، منادی پکارتا ہے: اے بھلائی کے چاہنے والے! بھلائی کے کام پہ آگے بڑھ، اور اے برائی کے چاہنے والے! اپنی برائی سے رک جا، کچھ لوگوں کو اللہ جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے، اور یہ (رمضان کی) ہر رات کو ہوتا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الصيام/حدیث: 1642]
فوائد و مسائل:
(1)
ماہ رمضان نیکیوں کامہینہ ہے۔
اس مہینے میں اللہ کی طرف سے نیکیوں کے راستے میں حائل بڑی رکاوٹیں دور کردی جاتی ہیں۔
اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص نیکیوں سے محروم رہ جاتا ہے۔
یابرایئوں سے اجتناب کرکے اللہ کی رحمت حاصل نہیں کرتا تو یہ اس کا اپنا قصور ہے،۔
(2)
شیطانوں اور سرکش جنوں کے قید ہوجانے کے باوجود ماہ رمضان میں انسانوں سے جو گناہ سرزد ہوتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ انسان گیارہ مہینوں میں گناہوں کا مسلسل ارتکاب کرنے کی وجہ سے ان کے عادی ہوجاتے ہیں۔
پھر رمضان میں نفس کی اصلاح کے لئے کوشش بھی نہیں کرتے۔
یعنی روزے نہیں رکھتے۔
کثرت سے تلاوت نہیں کرتے۔
تراویح نہیں پڑھتے۔
اس لئے ان کے نفس کی تربیت اور اصلاح نہ ہونے کی وجہ سے وہ گناہوں سے اجتناب نہیں کرسکتے۔
(3)
جنت کے دروازے کھل جانے اور جہنم کے دروازے بند ہوجانے سے حقیقتاً ان دروازوں کا کھلنا اور بند ہونا بھی مراد ہے۔
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مسلمان معاشرے میں ماہ رمضان کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
اس لئے نیکیوں کی طرف عام رجحان پیدا ہوتا ہے۔
اور مسلمان ہر قسم کی نیکی کرنے پرمستعد ہوجاتے ہیں۔
اور ہر گناہ سے بچنے کی شعوری کوشش کرتے ہیں۔
گویا یہ نیکیاں جنت کے دروازے ہیں۔
اور گناہ جہنم کے دروازے
(4)
اللہ تعالیٰ کی طرف سے نیکیوں میں آگے بڑھنے اور گناہوں سے باز آ جانے کا اعلان بھی، اس لئے ہے کہ مسلمان نیکیاں کرنے اور گناہوں سے بچنے کا زیادہ سے زیادہ اہتمام کریں۔
(5)
ہر رات بعض لوگوں کی جہنم سے آزادی بھی ماہ رمضان کا خصوصی شرف ہے۔
گناہوں سے توبہ کرکے ہر شخص اس شرف کو حاصل کرسکتا ہے۔