حدیث نمبر: 679
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ جَحْلٍ، عَنْ حُجْرٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ : " إِنَّا قَدْ أَخَذْنَا زَكَاةَ الْعَبَّاسِ عَامَ الْأَوَّلِ لِلْعَامِ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : لَا أَعْرِفُ حَدِيثَ تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَحَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنِ زَكَرِيَّا ، عَنْ الْحَجَّاجِ عِنْدِي أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَجَّاجِ بْنِ دِينَارٍ ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي تَعْجِيلِ الزَّكَاةِ قَبْلَ مَحِلِّهَا ، فَرَأَى طَائِفَةٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، قَالَ : أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ لَا يُعَجِّلَهَا ، وقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِنْ عَجَّلَهَا قَبْلَ مَحِلِّهَا أَجْزَأَتْ عَنْهُ ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا : ” ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابن عباس رضی الله عنہما سے بھی روایت ہے ، ۲- اسرائیل کی پہلے زکاۃ نکالنے والی حدیث کو جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے ہم صرف اسی طریق سے جانتے ہیں ، ۳- اسماعیل بن زکریا کی حدیث جسے انہوں نے حجاج سے روایت کی ہے میرے نزدیک اسرائیل کی حدیث سے جسے انہوں نے حجاج بن دینار سے روایت کی ہے زیادہ صحیح ہے ، ۴- نیز یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے بھی مروی ہے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ۵- اہل علم کا وقت سے پہلے پیشگی زکاۃ دینے میں اختلاف ہے ، اہل علم میں سے ایک جماعت کی رائے ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے ، سفیان ثوری اسی کے قائل ہیں ، وہ کہتے ہیں : کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ اسے پیشگی ادا نہ کرے ، اور اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ اگر وقت سے پہلے پیشگی ادا کر دے تو جائز ہے ۔ شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ اسی کے قائل ہیں ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اور یہی قول راجح ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 679
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن أيضا , شیخ زبیر علی زئی: (679) إسناده ضعيف, حجر العدوي لم يتبين لي من ھو(؟) وللحديث شواھد ضعيفه
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3760

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وقت سے پہلے زکاۃ دینے کا بیان۔`
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے فرمایا: " ہم عباس سے اس سال کی زکاۃ گزشتہ سال ہی لے چکے ہیں۔‏‏‏‏" [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 679]
اردو حاشہ:
1؎:
اور یہی قول راجح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 679 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3760 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´عباس بن عبدالمطلب رضی الله عنہ کے مناقب کا بیان`
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر رضی الله عنہ سے عباس رضی الله عنہ کے سلسلہ میں فرمایا: " بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے " عمر رضی الله عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب المناقب/حدیث: 3760]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر رضی اللہ عنہ کو زکٰوۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کر دیا، ان میں سے آپﷺ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آ پﷺ نے عمر سے فرمایا: (وَ أَمَّا الْعَبَّاسُ فَھِیَ عَلَيَّ وَمِثْلَھَا مَعَھَا) یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپﷺ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔

نوٹ:
(شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر: (3761) والصحیحة: 806)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3760 سے ماخوذ ہے۔