سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْمُتَصَدِّقِ يَرِثُ صَدَقَتَهُ باب: صدقہ دینے والا اپنے صدقہ کا وارث ہو جائے تو کیسا ہے؟
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ عَلَى أُمِّي بِجَارِيَةٍ وَإِنَّهَا مَاتَتْ ، قَالَ : " وَجَبَ أَجْرُكِ وَرَدَّهَا عَلَيْكِ الْمِيرَاثُ " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا صَوْمُ شَهْرٍ أَفَأَصُومُ عَنْهَا ؟ قَالَ : " صُومِي عَنْهَا " قَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّهَا لَمْ تَحُجَّ قَطُّ أَفَأَحُجُّ عَنْهَا ؟ قَالَ : " نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، لَا يُعْرَفُ هَذَا مِنْ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَطَاءٍ ثِقَةٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ إِذَا تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ ثُمَّ وَرِثَهَا حَلَّتْ لَهُ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : إِنَّمَا الصَّدَقَةُ شَيْءٌ جَعَلَهَا لِلَّهِ ، فَإِذَا وَرِثَهَا فَيَجِبُ أَنْ يَصْرِفَهَا فِي مِثْلِهِ ، وَرَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَزُهَيْرٌ هَذَا الْحَدِيثَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ .´بریدہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اتنے میں ایک عورت نے آپ کے پاس آ کر کہا : اللہ کے رسول ! میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی صدقے میں دی تھی ، اب وہ مر گئیں ( تو اس لونڈی کا کیا ہو گا ؟ ) آپ نے فرمایا : ” تمہیں ثواب بھی مل گیا اور میراث نے اُسے تمہیں لوٹا بھی دیا “ ۔ اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! میری ماں پر ایک ماہ کے روزے فرض تھے ، کیا میں ان کی طرف سے روزے رکھ لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” تو ان کی طرف سے روزہ رکھ لے “ ، اس نے پوچھا : اللہ کے رسول ! انہوں نے کبھی حج نہیں کیا ، کیا میں ان کی طرف سے حج کر لوں ؟ آپ نے فرمایا : ” ہاں ، ان کی طرف سے حج کر لے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- بریدہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث صرف اسی طریق سے جانی جاتی ہے ۔
۳- اکثر اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ آدمی جب کوئی صدقہ کرے پھر وہ اس کا وارث ہو جائے تو اس کے لیے وہ جائز ہے ، ۴- اور بعض کہتے ہیں : صدقہ تو اس نے اللہ کی خاطر کیا تھا لہٰذا جب اس کا وارث ہو جائے تو لازم ہے کہ پھر اسے اسی کے راستے میں صرف کر دے ( یہ زیادہ افضل ہے ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اگر کوئی انسان صدقہ کرتا ہے اور وہ صدقہ وراثت کی بناء پر اس کے پاس واپس آ جاتا ہے تو اس کے لیے اس کا لینا جائز ہے اور اس کے ثواب میں کمی نہیں ہوگی۔
2۔
والدین کی طرف سے نفلی حج بھی کیا جا سکتا ہے۔
3۔
ولی رمضان کے روزوں کی طرح میت کی طرف سے نذر کے روزے بھی رکھ سکتا ہے اگرچہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک روزے رکھنے جائز نہیں ہیں اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک رمضان کے روزے نہیں رکھ سکتا اور نذر کے روزے رکھ سکتا ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور کہا: میں نے ایک لونڈی اپنی ماں کو صدقہ میں دی تھی، اب وہ مر گئی ہیں اور وہی لونڈی چھوڑ کر گئی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا اجر پورا ہو گیا، اور وہ لونڈی تیرے پاس ترکے میں لوٹ آئی۔“ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1656]
➋ حدیث میں مذکور صورت صدقہ لوٹا لینے کی معروف صورت نہیں ہے جو منع ہے۔
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کہا: میں نے اپنی ماں کو ایک لونڈی ہبہ کی تھی، اب وہ مر گئیں اور لونڈی چھوڑ گئیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمہارا ثواب بن گیا اور تمہیں تمہاری لونڈی بھی میراث میں واپس مل گئی “، پھر اس نے عرض کیا: میری ماں مر گئی، اور اس پر ایک مہینے کے روزے تھے، کیا میں اس کی طرف سے قضاء کروں تو کافی ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” ہاں ۱؎ “، پھر اس نے کہا: اس نے حج بھی نہیں کیا تھا، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں تو۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الوصايا /حدیث: 2877]
1۔
والدین کی مادی ومعنوی خدمت اور مدد کرنا اہم تین فضائل میں سے ہے۔
اور بڑے اجر کا کام ہے۔
2۔
صدقہ اور ہدیہ اگر بطور ورثہ واپس مل جائے۔
تو اس کا مالک بننا جائز ہے۔
اسی طرح لینا اس ذیل میں نہیں آتا۔
جس میں صدقہ اور ہبہ واپس لینا ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
3۔
میت کے ذمے اگر روزے باقی ہوں تو وارث کو اس کی قضا کرنی چاہیے۔
4۔
اس طرح میت کی طرف سے حج بھی ہوسکتا ہے۔