حدیث نمبر: 663
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ : سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الصَّوْمِ أَفْضَلُ بَعْدَ رَمَضَانَ ؟ فَقَالَ : " شَعْبَانُ لِتَعْظِيمِ رَمَضَانَ " ، قِيلَ : فَأَيُّ الصَّدَقَةِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " صَدَقَةٌ فِي رَمَضَانَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، وَصَدَقَةُ بْنُ مُوسَى لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَاكَ الْقَوِيِّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا : رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ” شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں “ ، پوچھا گیا : کون سا صدقہ افضل ہے ؟ فرمایا : ” رمضان میں صدقہ کرنا “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- صدقہ بن موسیٰ محدثین کے نزدیک زیادہ قوی راوی نہیں ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 663
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف، الإرواء (889) , شیخ زبیر علی زئی: (663) إسناده ضعيف, صدقة بن موسي : ضعيف (د 4200)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 449) (ضعیف) (سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صدقہ کی فضیلت کا بیان۔`
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: رمضان کے بعد کون سے روزے افضل ہے؟ آپ نے فرمایا: شعبان کے روزے جو رمضان کی تعظیم کے لیے ہوں ، پوچھا گیا: کون سا صدقہ افضل ہے؟ فرمایا: رمضان میں صدقہ کرنا۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 663]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں صدقہ بن موسیٰ حافظہ کے ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 663 سے ماخوذ ہے۔