سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي كَرَاهِيَةِ الصَّدَقَةِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَمَوَالِيهِ باب: نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم، اہل بیت اور آپ کے موالی سب کے لیے زکاۃ لینے کی حرمت۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَيُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الضُّبَعِيُّ السَّدُوسِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِشَيْءٍ سَأَلَ أَصَدَقَةٌ هِيَ أَمْ هَدِيَّةٌ ؟ فَإِنْ قَالُوا : صَدَقَةٌ لَمْ يَأْكُلْ ، وَإِنْ قَالُوا : هَدِيَّةٌ أَكَلَ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ سَلْمَانَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، وَأَنَسٍ ، وَالْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ ، وَأَبِي عَمِيرَةَ جَدِّ مُعَرِّفِ بْنِ وَاصِلٍ وَاسْمُهُ رُشَيْدُ بْنُ مَالِكٍ ، وَمَيْمُونِ بْنِ مِهْرَانَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، وَأَبِي رَافِعٍ ، وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ . وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَقِيلٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَجَدُّ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ اسْمُهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ حَيْدَةَ الْقُشَيْرِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَحَدِيثُ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .´معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں :` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے : ” صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ “ اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- بہز بن حکیم کی یہ حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں سلمان ، ابوہریرہ ، انس ، حسن بن علی ، ابوعمیرہ ( معرف بن واصل کے دادا ہیں ان کا نام رشید بن مالک ہے ) ، میمون ( یا مہران ) ، ابن عباس ، عبداللہ بن عمرو ، ابورافع اور عبدالرحمٰن بن علقمہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- نیز یہ حدیث عبدالرحمٰن بن علقمة ، سے بھی مروی ہے انہوں نے اسے عبدالرحمٰن بن أبي عقيل سے اور عبدالرحمٰن نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
معاویہ بن حیدہ قشیری رضی الله عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: " صدقہ ہے یا ہدیہ؟ " اگر لوگ کہتے کہ صدقہ ہے تو آپ نہیں کھاتے اور اگر کہتے کہ ہدیہ ہے تو کھا لیتے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 656]
1؎:
صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ سے آخرت کا ثواب مقصود ہوتا ہے اور اس کا دینے والا باعزت اور لینے والا ذلیل و حاجت مند سمجھا جاتا ہے جب کہ ہدیہ سے ہدیہ کئے جانے والے کا تقرب مقصود ہوتا ہے اور ہدیہ کرنے والی کی نظر میں اس کے با عزت اور مکرم ہونے کا پتہ چلتا ہے۔
بہز بن حکیم کے دادا (معاویہ بن حیدہ) رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس (کھانے کی) کوئی چیز لائی جاتی تو آپ پوچھتے: " یہ ہدیہ ہے یا صدقہ؟ " اگر کہا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ نہ کھاتے اور اگر کہا جاتا یہ ہدیہ ہے تو آپ (کھانے کے لیے) اپنا ہاتھ بڑھاتے۔ [سنن نسائي/كتاب الزكاة/حدیث: 2614]