سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَنْ لاَ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ باب: زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟
حدیث نمبر: 654
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ سُلَيْمَانَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : اس سند سے یہ حدیث غریب ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زکاۃ لینا کس کس کے لیے جائز نہیں؟`
اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 654]
اس سند سے بھی عبدالرحیم بن سلیمان سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 654]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
نوٹ:
(اس میں بھی مجالد ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد کی بنا پر صحیح لغیرہ ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 654 سے ماخوذ ہے۔