سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَنْ تَحِلُّ لَهُ الزَّكَاةُ باب: زکاۃ کس کے لیے جائز ہے؟
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ صَاحِبُ شُعْبَةَ : لَوْ غَيْرُ حَكِيمٍ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ ، فَقَالَ لَهُ سُفْيَانُ : وَمَا لِحَكِيمٍ لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ شُعْبَةُ ، قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ سُفْيَانُ : زُبَيْدًا يُحَدِّثُ بِهَذَا ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَصْحَابِنَا ، وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، قَالُوا : إِذَا كَانَ عِنْدَ الرَّجُلِ خَمْسُونَ دِرْهَمًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ الصَّدَقَةُ ، قَالَ : وَلَمْ يَذْهَبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى حَدِيثِ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ وَوَسَّعُوا فِي هَذَا ، وَقَالُوا : إِذَا كَانَ عِنْدَهُ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ أَكْثَرُ وَهُوَ مُحْتَاجٌ فَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الزَّكَاةِ ، وَهُوَ قَوْلُ : الشَّافِعِيِّ وَغَيْرِهِ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ .´سفیان نے بھی حکیم بن جبیر سے` یہ حدیث اسی سند سے روایت کی ہے ۔ جب سفیان نے یہ حدیث روایت کی تو ان سے شعبہ کے شاگرد عبداللہ بن عثمان نے کہا : کاش حکیم کے علاوہ کسی اور نے اس حدیث کو بیان کیا ہوتا ، تو سفیان نے ان سے پوچھا ـ : کیا بات ہے کہ شعبہ حکیم سے حدیث روایت نہیں کرتے ؟ انہوں نے کہا : ہاں ، وہ نہیں کرتے ۔ تو سفیان نے کہا : میں نے اسے زبید کو محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے روایت کرتے سنا ہے ، اور اسی پر ہمارے بعض اصحاب کا عمل ہے اور یہی سفیان ثوری ، عبداللہ بن مبارک ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جب آدمی کے پاس پچاس درہم ہوں تو اس کے لیے زکاۃ جائز نہیں ۔ اور بعض اہل علم حکیم بن جبیر کی حدیث کی طرف نہیں گئے ہیں بلکہ انہوں نے اس میں مزید گنجائش رکھی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ جب کسی کے پاس پچاس درہم یا اس سے زیادہ ہوں اور وہ ضرورت مند ہو تو اس کو زکاۃ لینے کا حق ہے ، اہل فقہ و اہل حدیث میں سے شافعی وغیرہ کا یہی قول ہے ۔