سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي رِضَا الْمُصَدِّقِ باب: زکاۃ وصول کرنے والے کی رضا مندی کا بیان۔
حدیث نمبر: 648
حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ دَاوُدَ ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ ، وَقَدْ ضَعَّفَ مُجَالِدًا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ وَهُوَ كَثِيرُ الْغَلَطِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` جریر رضی الله عنہ کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : داود کی شعبی سے روایت کی ہوئی حدیث مجالد کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے ، مجالد کو بعض اہل علم نے ضعیف گردانا ہے وہ کثیر الغلط ہیں یعنی ان سے بکثرت غلطیاں ہوتی ہیں ۔