حدیث نمبر: 646
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، وَأُمِّ سَلَمَةَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَنَسٍ حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ تَكَلَّمَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ فِي سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، وَهَكَذَا يَقُولُ اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ سِنَانٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ . وَيَقُولُ عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ : عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ سِنَانِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : وَالصَّحِيحُ سِنَانُ بْنُ سَعْدٍ . وَقَوْلُهُ : " الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كَمَانِعِهَا " ، يَقُولُ : عَلَى الْمُعْتَدِي مِنَ الْإِثْمِ كَمَا عَلَى الْمَانِعِ إِذَا مَنَعَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اس باب میں ابن عمر ، ام سلمہ اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۲- انس کی حدیث اس سند سے غریب ہے ، ۳- احمد بن حنبل نے سعد بن سنان کے سلسلہ میں کلام کیا ہے ۔ اسی طرح لیث بن سعد بھی کہتے ہیں ۔ وہ بھی «عن يزيد بن حبيب ، عن سعد بن سنان ، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ، اور عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ «عن يزيد بن حبيب ، عن سنان بن سعد ، عن أنس بن مالك» کہتے ہیں ۱؎ ، ۴- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ صحیح ” سنان بن سعد “ ہے ، ۵- اور زکاۃ وصول کرنے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے کا مطلب یہ ہے کہ زیادتی کرنے والے پر وہی گناہ ہے جو نہ دینے والے پر ہے ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی یزید بن ابی حبیب اور انس کے درمیان جو راوی ہیں ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیث بن سعد نے سعد بن سنان کہا ہے اور عمرو بن حارث اور لہیعہ نے سنان بن سعد کہا ہے، امام بخاری نے عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ کے قول کو صحیح کہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 646
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1808) , شیخ زبیر علی زئی: (646) إسناده ضعيف /د 1585، جه 1808
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الزکاة 4 (1585) ، سنن ابن ماجہ/الزکاة 14 (1808) ، ( تحفة الأشراف : 847) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1585 | سنن ابن ماجه: 1808

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والے کا بیان۔`
انس بن مالک رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ وصول کرنے میں ظلم و زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے۔‏‏‏‏ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 646]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی یزید بن ابی حبیب اور انس کے درمیان جو راوی ہیں ان کے نام کے بارے میں اختلاف ہے، لیث بن سعد نے ’’سعد بن سنان‘‘ کہا ہے اور عمرو بن حارث اور لہیعہ نے ’’سنان بن سعد‘‘ کہا ہے، امام بخاری نے عمرو بن حارث اور ابن لہیعہ کے قول کو صحیح کہا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 646 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1585 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´چرنے والے جانوروں کی زکاۃ کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا، زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الزكاة /حدیث: 1585]
1585. اردو حاشیہ: یعنی جو عامل زکوۃ لینے میں ظلم کرتا ہو، اس کا گناہ ایسے ہی ہے جیسے زکوۃ نہ دینا۔ دوسرا مفہوم یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ظالم عامل، مانع زکوۃ ہے۔ یعنی اس کے ظلم کے باعث لوگ اپنا مال چھپائیں گے، جھوٹ بولیں گے اور زکوۃ نہیں دیں گے، اس لیے یہ بہت بڑا گناہ ہے۔ آج کل کے ٹیکسوں کے نظام کی ناکامی بھی ظلم اور خیانت کے باعث ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1585 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1808 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´زکاۃ کی وصولی کرنے والوں کا بیان۔`
انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زکاۃ لینے میں زیادتی کرنے والا زکاۃ نہ دینے والے کی طرح ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الزكاة/حدیث: 1808]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
زکاۃ کے معاملے میں زیادتی کرنے والے سے مراد زکاۃ وصول کرنے والا وہ اہل کار ہے جو شرعی طور پر مقررہ مقدار سے زیادہ زکاۃ طلب کرتا ہے، یا درمیانے درجے کے جانور وصول کرنے کے بجائے بہترین جانور طلب کرتا ہے۔
ایسا اہل کار اسی طرح گناہ گار ہے جس طرح وہ شخص گناہگار ہے جس پر زکاۃ واجب ہو اور وہ ادائیگی سے انکار کردے، یعنی یہ کبیرہ گناہ ہے۔
اس شخص کو زکاۃ نہ دینے والے سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کہ اس کی زیادتی کی وجہ سے لوگوں میں زکاۃ نہ دینے کی خواہش پیدا ہو تی ہے اور وہ حیلے بہانوں سے زکاۃ روک لیتے ہیں۔
زکاۃ کے معاملے میں زیادتی کرنے والے سے مراد وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جو زکاۃ یا صدقات غیر مستحق افراد کو دیتا ہے لیکن وہ شخص اس صورت میں خطا کار سمجھا جائے گا جب اسے معلوم ہو کہ جس شخص کو زکاۃ دی جا رہی ہے وہ حقیقت میں اس کا مستحق نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1808 سے ماخوذ ہے۔