سنن ترمذي
كتاب الزكاة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: زکاۃ و صدقات کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ جِزْيَةٌ باب: مسلمانوں پر جزیہ نہیں ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ . وَفِي الْبَاب عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ ، وَجَدِّ حَرْبِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ رُوِيَ ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ ، أَنَّ النَّصْرَانِيَّ إِذَا أَسْلَمَ وُضِعَتْ عَنْهُ جِزْيَةُ رَقَبَتِهِ ، وَقَوْلُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ " إِنَّمَا يَعْنِي بِهِ جِزْيَةَ الرَّقَبَةِ ، وَفِي الْحَدِيثِ مَا يُفَسِّرُ هَذَا حَيْثُ ، قَالَ : إِنَّمَا الْعُشُورُ عَلَى الْيَهُودِ ، وَالنَّصَارَى وَلَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ عُشُورٌ .´اس سند سے بھی` قابوس سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابن عباس کی حدیث قابوس بن ابی ظبیان سے مروی ہے جسے انہوں نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہے ، ۲- اس باب میں سعید بن زید اور حرب بن عبیداللہ ثقفی کے دادا سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اہل علم کا عمل اسی پر ہے کہ نصرانی جب اسلام قبول کر لے تو اس کی اپنی گردن کا جزیہ معاف کر دیا جائے گا ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان «ليس على المسلمين عشور» ” مسلمانوں پر عشر نہیں ہے “ کا مطلب بھی گردن کا جزیہ ہے ، اور حدیث میں بھی اس کی وضاحت کر دی گئی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا : ” عشر صرف یہود و نصاریٰ پر ہے ، مسلمانوں پر کوئی عشر نہیں “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اس سند سے بھی قابوس سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الزكاة/حدیث: 634]