سنن ترمذي
أبواب السفر— کتاب: سفر کے احکام و مسائل
باب مَا ذُكِرَ فِي مَسْحِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ نُزُولِ الْمَائِدَةِ باب: سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 612
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، قَالَ : حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ مَيْسَرَةَ النَّحْوِيُّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زِيَادٍ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ ، لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُقَاتِلِ بْنِ حَيَّانَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´اس سند سے بھی` خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث غریب ہے ہم اسے اس طرح مقاتل بن حیان کی سند سے جانتے ہیں انہوں نے اسے شہر بن حوشب سے روایت کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: لیکن متابعات کی بنا پر حسن ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورہ مائدہ کے نزول کے بعد بھی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کے موزوں پر مسح کرنے کا بیان۔`
اس سند سے بھی خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 612]
اس سند سے بھی خالد بن زیاد سے اسی طرح مروی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 612]
اردو حاشہ: 1 ؎: لیکن متابعات کی بنا پر حسن ہے۔
نوٹ:
(سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے اس کی تقویت ہوتی ہے)
نوٹ:
(سند میں محمد بن حمید رازی ضعیف ہیں، لیکن سابقہ حدیث سے اس کی تقویت ہوتی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 612 سے ماخوذ ہے۔