حدیث نمبر: 600
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ أَشْعَثَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُصَلِّي فِي لُحُفِ نِسَائِهِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں :` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی اجازت بھی مروی ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا، عدم جواز کی وجہ سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے، اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السفر / حدیث: 600
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (391)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 134 (267) ، والصلاة 88 (645) ، سنن النسائی/الزینة 115 (5368) ، ( تحفة الأشراف : 16221) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عورتوں کی چادروں میں نماز پڑھنے کی کراہت۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 600]
اردو حاشہ:
1؎:
ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا، عدمِ جواز کی وجہ سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے، اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 600 سے ماخوذ ہے۔