حدیث نمبر: 579
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ : قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ : يَا حَسَنُ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَسَجَدْتُ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي فَسَمِعْتُهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا ، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا ، وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ قَالَ الْحَسَنُ : قَالَ لِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ : قَالَ لِي جَدُّكَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، " فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ " . قَالَ : فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَهُ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عباس رضی الله عنہا کہتے ہیں کہ` ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں نے آج رات اپنے کو دیکھا اور میں سو رہا تھا ( یعنی خواب میں دیکھا ) کہ میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں ، میں نے سجدہ کیا تو میرے سجدے کے ساتھ اس درخت نے بھی سجدہ کیا ، پھر میں نے اسے سنا ، وہ کہہ رہا تھا : «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ” اے اللہ ! اس کے بدلے تو میرے لیے اجر لکھ دے ، اور اس کے بدلے میرا بوجھ مجھ سے ہٹا دے ، اور اسے میرے لیے اپنے پاس ذخیرہ بنا لے ، اور اسے مجھ سے تو اسی طرح قبول فرما جیسے تو نے اپنے بندے داود سے قبول کیا تھا “ ۔ حسن بن محمد بن عبیداللہ بن ابی یزید کہتے ہیں : مجھ سے ابن جریج نے کہا کہ مجھ سے تمہارے دادا نے کہا کہ ابن عباس رضی الله عنہما نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت سجدے کی تلاوت کی اور سجدہ کیا ، ابن عباس کہتے ہیں : تو میں نے آپ کو ویسے ہی کہتے سنا جیسے اس شخص نے اس درخت کے الفاظ بیان کئے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث ابن عباس رضی الله عنہما کی روایت سے حسن غریب ہے ، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السفر / حدیث: 579
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن، ابن ماجة (1053)
تخریج حدیث «سنن ابن ماجہ/الإقامة 70 (1053) ، ( تحفة الأشراف : 5867) (حسن)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3424

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3424 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´سجدہ تلاوت میں آدمی کیا پڑھے؟`
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (م۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3424]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر وثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے (گناہوں کا) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس (میرے لیے آخرت کا) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبو ل کیا تھا۔

2؎:
اللہ کی طرف سے احکام ومسائل بتانے کے مختلف طریقے اختیار کیے گئے تھے، ان میں سے ایک طریقہ یہ تھا کہ اللہ کسی صحابی کو خواب دکھاتا، اس میں فرشتہ کوئی مسئلہ بتاتا اور وہ صحابی بیدار ہو کر اللہ کے رسول ﷺسے ذکر کرتا، آپﷺ اس کی تقریر (تصدیق) کر دیتے، جیسے اذان میں ہوا تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3424 سے ماخوذ ہے۔