سنن ترمذي
أبواب السفر— کتاب: سفر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مَنْ لَمْ يَسْجُدْ فِيهِ باب: جو لوگ سورۃ النجم میں سجدے کے قائل نہیں۔
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ : " قَرَأْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَتَأَوَّلَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ ، فَقَالَ : " إِنَّمَا تَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السُّجُودَ " لِأَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حِينَ قَرَأَ فَلَمْ يَسْجُدْ لَمْ يَسْجُدِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالُوا : السَّجْدَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى مَنْ سَمِعَهَا فَلَمْ يُرَخِّصُوا فِي تَرْكِهَا ، وَقَالُوا : إِنْ سَمِعَ الرَّجُلُ وَهُوَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ ، فَإِذَا تَوَضَّأَ سَجَدَ ، وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَأَهْلِ الْكُوفَةِ ، وَبِهِ يَقُولُ إِسْحَاق ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : إِنَّمَا السَّجْدَةُ عَلَى مَنْ أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ فِيهَا ، وَالْتَمَسَ فَضْلَهَا وَرَخَّصُوا فِي تَرْكِهَا إِنْ أَرَادَ ذَلِكَ ، وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ ، حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ ، حَيْثُ قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّجْمَ فَلَمْ يَسْجُدْ فِيهَا ، فَقَالُوا : لَوْ كَانَتِ السَّجْدَةُ وَاجِبَةً لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدًا حَتَّى كَانَ يَسْجُدَ ، وَيَسْجُدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . وَاحْتَجُّوا بِحَدِيثِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَرَأَ سَجْدَةً عَلَى الْمِنْبَرِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ ، ثُمَّ قَرَأَهَا فِي الْجُمُعَةِ الثَّانِيَةَ فَتَهَيَّأَ النَّاسُ لِلسُّجُودِ ، فَقَالَ : إِنَّهَا لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا إِلَّا أَنْ نَشَاءَ ، فَلَمْ يَسْجُدْ وَلَمْ يَسْجُدُوا . فَذَهَبَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِلَى هَذَا ، وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ .´زید بن ثابت رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی مگر آپ نے سجدہ نہیں کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- بعض اہل علم نے اس حدیث کی تاویل کی ہے ، انہوں نے کہا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ اس لیے نہیں کیا کہ زید بن ثابت رضی الله عنہ نے جس وقت یہ سورۃ پڑھی تو خود انہوں نے بھی سجدہ نہیں کیا ، اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سجدہ نہیں کیا ۔ وہ کہتے ہیں : یہ سجدہ ہر اس شخص پر واجب ہے جو اسے سنے ، ان لوگوں نے اسے چھوڑنے کی اجازت نہیں دی ہے ، وہ کہتے ہیں کہ آدمی اگر اسے سنے اور وہ بلا وضو ہو تو جب وضو کر لے سجدہ کرے ۔ اور یہی سفیان ثوری اور اہل کوفہ کا قول ہے ، اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ اور بعض اہل علم کہتے ہیں : یہ سجدہ صرف اس پر ہے جو سجدہ کرنے کا ارادہ کرے ، اور اس کی خیر و برکت کا طلب گار ہو ، انہوں نے اسے ترک کرنے کی اجازت دی ہے ، اگر وہ ترک کرنا چاہے ، ۳- اور انہوں نے حدیث مرفوع یعنی زید بن ثابت رضی الله عنہ کی حدیث سے جس میں ہے میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سورۃ النجم پڑھی ، لیکن آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا ۔ استدلال کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ اگر یہ سجدہ واجب ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زید کو سجدہ کرائے بغیر نہ چھوڑتے اور خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی سجدہ کرتے ۔ اور ان لوگوں نے عمر رضی الله عنہ کی حدیث سے بھی استدلال ہے کہ انہوں نے منبر پر سجدہ کی آیت پڑھی اور پھر اتر کر سجدہ کیا ، اسے دوسرے جمعہ میں پھر پڑھا ، لوگ سجدے کے لیے تیار ہوئے تو انہوں نے کہا : یہ ہم پر فرض نہیں ہے سوائے اس کے کہ ہم چاہیں تو چنانچہ نہ تو انہوں نے سجدہ کیا اور نہ لوگوں نے کیا ، بعض اہل علم اسی طرف گئے ہیں اور یہی شافعی اور احمد کا بھی قول ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
جو لوگ سجدہ تلاوت کو واجب کہتے ہیں وہ بھی فوراً سجدہ کرنا ضروری نہیں جانتے۔
ممکن ہے آپ نے بعد کو سجدہ کر لیاہو۔
بزاد اور دارقطنی نے حضرت ابو ہریرہ ؓ سے نکالا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سجدہ والنجم میں سجدہ کیااور ہم نے بھی آپ کے ساتھ سجدہ کیا۔
(1)
بعض حضرات کا موقف ہے کہ مفصل کی سورتوں میں کوئی سجدہ نہیں بلکہ امام ثور نے کہا ہے کہ سورۂ نجم میں بھی سجدہ نہیں ہے۔
یہ حضرات دلیل کے طور پر حضرت زید بن ثابت ؓ کی مذکورہ روایت پیش کرتے ہیں۔
امام بخاری ؓ نے اس عنوان اور احادیث سے ان حضرات کی تردید فرمائی ہے اور ثابت کیا ہے کہ سورۂ نجم میں سجدہ ہے، جیسا کہ سابقہ احادیث میں ہے، البتہ مذکورہ حدیث میں ترک سجدہ کی متعدد وجوہات ممکن ہیں، مثلاً: ٭ آپ اس وقت بحالت وضو نہ ہوں۔
٭ وہ کراہت کا وقت ہو جب اسے تلاوت کیا گیا۔
٭ راجح احتمال یہ ہے کہ بیان جواز کے لیے ایسا کیا گیا، یعنی اس کا ترک بھی جائز ہے۔
(2)
ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے آپ نے کبھی مفصل کی سورتوں میں سجدہ نہیں کیا۔
اس روایت کو اہل علم محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
(فتح الباري: 718/2)
علامہ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اوترک حینئذ لبیان الجواز وھذا رجح الاحتمالات وبہ جزم الشافعی (فتح)
یعنی آپ نے سجدہ اس لیے نہیں کیا کہ اس کا ترک بھی جائز ہے اسی تاویل کو ترجیح حاصل ہے امام شافعی کا یہی خیال ہے۔
«. . سَأَلَ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ، عَنِ الْقِرَاءَةِ مَعَ الإِمَامِ، فَقَالَ: لَا قِرَاءَةَ مَعَ الإِمَامِ فِي شَيْءٍ . . .»
”. . . سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے امام کے پیچھے پڑھنے کے بارے میں پوچھا۔ انہوں نے کہا: امام کے پیچھے کچھ نہ پڑھنا چاہیئے . . .“
یعنی امام کے ساتھ کسی نماز میں بھی جہری قرأت نہیں کرنی چاہئیے، بلکہ خفیہ آواز کے ساتھ سراً دل میں سورہ فاتحہ پڑھنی چاہئیے۔
زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورہ فاتحہ سے زائد قراءت کا انکار کر رہے ہیں، کیونکہ اگر ان کا مقصد ہر قسم کی قراءت مراد ہو یعنی فاتحہ ہو یا اس کے سوا تو پھر یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے فاتحہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی کے منافی ہو گی۔
اس لیے صحیح احادیث کے مقابلے میں ان کا قول نظر انداز کر دیا جائے گا۔
2۔
سجدہ تلاوت امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ اور جمہور سلف کے نزدیک سنت ہے، اس لیے آپﷺ نے بعض دفعہ سجدہ تلاوت نہیں کیا، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک یہ واجب ہے فرض نہیں ہے اور احناف کی طرف سے جو دلائل دئیے جاتے ہیں ان سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔
﴿فَاسْجُدُوا لِلَّهِ وَاعْبُدُوا﴾ سے جو وجوب ثابت کیا جاتا ہے وہ بھی صحیح نہیں کیونکہ اس کے مخاطب مسلمان نہیں ہیں۔
پھر عجیب بات یہ ہے کہ احناف نماز میں رکوع کو ہی (اگر تین آیات کی تلاوت کے بعد کر دیا جائے)
سجدہ تلاوت کی جگہ کافی سمجھتے ہیں اور اگر نماز میں سجدہ تلاوت ادا کرنے سے رہ جائے تو ساقط قرار دیتے ہیں۔
(شرح صحیح مسلم: 2/ 154)
کیا جو چیز واجب ہے وہ رہ جائے تو ساقط ہو جاتی ہے۔
احناف کے نزدیک واجب کا درجہ فرض سے کم ہے، وہ فرض اور واجب میں فرق کرتے ہیں، باقی ائمہ کے نزدیک فرض واجب میں کوئی فرق نہیں ہے۔
زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سورۃ النجم پڑھ کر سنائی تو آپ نے اس میں سجدہ نہیں کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1404]
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو سورۃ «النجم» کی قرآت کی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ تلاوت نہیں کیا۔ (بخاری و مسلم) «بلوغ المرام/حدیث: 273»
«أخرجه البخاري، سجود القرآن، باب من قرأ السجدة ولم يسجد، حديث:1072، ومسلم، المساجد، باب سجود التلاوة، حديث:577.»
تشریح: 1. نبی ٔاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا سورۂ نجم میں سجدہ نہ کرنا اس بات کو مستلزم نہیں ہے کہ اس سورت کا سجدہ مشروع نہیں۔
یہاں مقصود صرف یہ بتانا ہے کہ اس میں کبھی تو آپ نے سجدہ کیا جیسے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث گزر چکی ہے اور کبھی آپ نے چھوڑ دیا۔
2. یہ حدیث سجود تلاوت کے سنت ہونے کی دلیل ہے‘ اگر یہ واجب ہوتے تو پھر آپ کبھی نہ چھوڑتے۔
کبھی کر لینا اور کبھی نہ کرنا ہی اس کے سنت ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
جمہور کا مسلک ہی صحیح ہے۔
راویٔ حدیث:
«حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ» ابوسعید یا ابو خارجہ ان کی کنیت ہے۔
انصار کے مشہور قبیلہ نجار سے تعلق رکھتے تھے۔
وحی کی سب سے زیادہ کتابت یہی کیا کرتے تھے اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم میں سے فرائض‘ یعنی علم میراث کے بڑے ماہر تھے۔
خندق کا معرکہ وہ پہلا معرکہ ہے جس میں یہ شریک ہوئے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں جمع قرآن کی خدمت انھی نے انجام دی تھی اور عہد خلافت عثمان رضی اللہ عنہ میں اس کی نقول بھی آپ ہی نے تیار کی تھیں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کی تعمیل میں یہود کا رسم الخط صرف پندرہ دن میں سیکھ لیا تھا اور آپ کے خطوط تحریر کرتے اور اس کے بعد آپ کو پڑھ کر سنا دیا کرتے تھے۔
۴۵ ہجری میں مدینہ میں وفات پائی۔
کچھ اور بھی اقوال ہیں۔