حدیث نمبر: 574
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ يَرَوْنَ السُّجُودَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَ اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ أَرْبَعَةٌ مِنَ التَّابِعِينَ بَعْضُهُمْ عَنْ بَعْضٍ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اس سند سے بھی` ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- ابوہریرہ رضی الله عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے ۔ اس حدیث کی سند میں چار تابعین ۱؎ ہیں ، جو ایک دوسرے سے روایت کر رہے ہیں ، ۲- اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، یہ لوگ «‏إذا السماء انشقت» اور «‏اقرأ باسم ربك الذي خلق» میں سجدہ کرنے کے قائل ہیں ۔

وضاحت:
۱؎: وہ یہ ہیں: ابوبکر بن محمد بن حزم، عمر بن عبدالعزیز، ابوبکر بن عبدالرحمٰن اور ہشام۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب السفر / حدیث: 574
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1059)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : 14865) (صحیح)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سورۃ اقرأ اور سورۃ الانشقاق کے سجدے کا بیان۔`
اس سند سے بھی ابوہریرہ رضی الله عنہ سے اسی کے مثل مروی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 574]
اردو حاشہ:
1؎:
وہ یہ ہیں: ابو بکر بن محمد بن حزم، عمر بن عبد العزیز، ابو بکر بن عبد الرحمن اور ہشام۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 574 سے ماخوذ ہے۔