سنن ترمذي
أبواب السفر— کتاب: سفر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ باب: قرآن کے سجدوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 568
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عُمَرَ الدِّمَشْقِيِّ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ : " سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِحْدَى عَشْرَةَ سَجْدَةً مِنْهَا الَّتِي فِي النَّجْمِ ".ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے ۔ ان میں سے ایک وہ تھا جو سورۂ نجم میں ہے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´قرآن کے سجدوں کا بیان۔`
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے۔ ان میں سے ایک وہ تھا جو سورۂ نجم میں ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 568]
ابو الدرداء رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیارہ سجدے کئے۔ ان میں سے ایک وہ تھا جو سورۂ نجم میں ہے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 568]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سندمیں عمربن حیان دمشقی مجہول راوی ہے)
نوٹ:
(سندمیں عمربن حیان دمشقی مجہول راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 568 سے ماخوذ ہے۔