سنن ترمذي
أبواب السفر— کتاب: سفر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الْخَوْفِ باب: نماز خوف کا بیان۔
حدیث نمبر: 567
وَرَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ ، عَنْ مَنْ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ فَذَكَرَ نَحْوَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ، وَبِهِ يَقُولُ مَالِكٌ ، وَالشَّافِعِيُّ ، وَأَحْمَدُ ، وَإِسْحَاق ، وَرُوِي عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً رَكْعَةً ، فَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ وَلَهُمْ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : أَبُو عَيَّاشٍ الزُّرَقِيُّ اسْمُهُ زَيْدُ بْنُ صَامِتٍ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صالح بن خوات ایک ایسے شخص سے روایت کرتے ہیں` جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلاۃ خوف ادا کی ، پھر انہوں نے اسی طرح ذکر کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- مالک ، شافعی ، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں ۔
۳- نیز کئی لوگوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں جماعتوں کو ایک ایک رکعت پڑھائی ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی ( امام کے ساتھ ) ایک ایک رکعت ۔