سنن ترمذي
أبواب السفر— کتاب: سفر کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي صَلاَةِ الاِسْتِسْقَاءِ باب: نماز استسقاء کا بیان۔
حدیث نمبر: 557
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ، أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ يَسْتَسْقِي وَهُوَ مُقْنِعٌ بِكَفَّيْهِ يَدْعُو " . قَالَ أَبُو عِيسَى : كَذَا قَالَ قُتَيْبَةُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ ، عَنْ آبِي اللَّحْمِ وَلَا نَعْرِفُ لَهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا هَذَا الْحَدِيثَ الْوَاحِدَ ، وَعُمَيْرٌ مَوْلَى آبِي اللَّحْمِ ، قَدْ رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَادِيثَ وَلَهُ صُحْبَةٌ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´آبی اللحم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارزیت ۱؎ کے پاس اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا ۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اٹھائے دعا فرما رہے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- قتیبہ نے اس حدیث کی سند میں اسی طرح «عن آبی اللحم» کہا ہے اور ہم اس حدیث کے علاوہ ان کی کوئی اور حدیث نہیں جانتے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہو
۲- عمیر ، آبی اللحم رضی الله عنہ کے مولیٰ ہیں ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی احادیث روایت کی ہیں ۔ اور انہیں خود بھی شرف صحابیت حاصل ہے ۔
وضاحت:
۱؎: مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´نماز استسقاء کا بیان۔`
آبی اللحم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارزیت ۱؎ کے پاس اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اٹھائے دعا فرما رہے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 557]
آبی اللحم رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجارزیت ۱؎ کے پاس اللہ تعالیٰ سے بارش طلب کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ اپنی دونوں ہتھیلیاں اٹھائے دعا فرما رہے تھے۔ [سنن ترمذي/أبواب السفر/حدیث: 557]
اردو حاشہ:
1؎:
مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
1؎:
مدینے میں ایک جگہ کا نام ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 557 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1515 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´استسقاء میں ہاتھ کیسے اٹھائے؟`
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
آبی اللحم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احجار الزیت کے پاس دیکھا کہ آپ بارش کے لیے دعا کر رہے تھے، اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کو اٹھائے دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الاستسقاء/حدیث: 1515]
1515۔ اردو حاشیہ: ➊ آبی اللحم نام نہیں لقب ہے کیونکہ یہ جاہلیت میں بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے۔ ان کے نام کی بابت اختلاف ہے۔ بعض نے عبداللہ بن عبدالملک، بعض نے خلف اور حویرث بتایا ہے۔ جنگ صفین میں شہید ہوئے۔ رضی اللہ عنہ۔
➋ احجار الزیت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے کیونکہ وہاں پتھر سیاہ چمکدار تھے جیسے انہیں تیل ملاگیا ہو۔
➋ احجار الزیت مدینہ منورہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے کیونکہ وہاں پتھر سیاہ چمکدار تھے جیسے انہیں تیل ملاگیا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1515 سے ماخوذ ہے۔