سنن ترمذي
أبواب العيدين عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: عیدین کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الْقِرَاءَةِ فِي الْعِيدَيْنِ باب: عیدین میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْعِيدَيْنِ وَفِي الْجُمُعَةِ بِ : سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى وَ هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ وَرُبَّمَا اجْتَمَعَا فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ فَيَقْرَأُ بِهِمَا " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي وَاقِدٍ ، وَسَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَهَكَذَا رَوَى سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَمِسْعَرٌ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ ، وَأَمَّا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ فَيُخْتَلَفُ عَلَيْهِ فِي الرِّوَايَةِ ، يُرْوَى عَنْهُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ وَلَا نَعْرِفُ لِحَبِيبِ بْنِ سَالِمٍ رِوَايَةً عَنْ أَبِيهِ ، وَحَبِيبُ بْنُ سَالِمٍ هُوَ مَوْلَى النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ . وَرَوَى عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ أَحَادِيثَ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ نَحْوُ رِوَايَةِ هَؤُلَاءِ ، وَرُوِي عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْعِيدَيْنِ بِ قَافٍ ، وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ " وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيّ .´نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے ، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- اس باب میں ابوواقد ، سمرہ بن جندب اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- اور اسی طرح سفیان ثوری اور مسعر نے بھی ابراہیم بن محمد بن منتشر سے ابو عوانہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے ، ۴- رہے سفیان بن عیینہ تو ان سے روایت میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ ان کی ایک سند یوں ہے : «عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر عن أبيه عن حبيب بن سالم عن أبيه عن النعمان بن بشير » اور ہم حبیب بن سالم کی کسی ایسی روایت کو نہیں جانتے جسے انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ہو ۔ حبیب بن سالم نعمان بن بشیر کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہوں نے نعمان بن بشیر سے کئی احادیث روایت کی ہیں ۔ اور ابن عیینہ سے ابراہیم بن محمد بن منتشر کے واسطہ سے ان لوگوں کی طرح بھی روایت کی گئی ہے ۲؎ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ عیدین کی نماز میں «سورة ق» اور «اقتربت الساعة» پڑھتے تھے ۳؎ اور یہی شافعی بھی کہتے ہیں ۔
۲؎: یعنی: بغیر «عن أبیہ» کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آ رہی ہے۔
۳؎: اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہرحال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔ مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گناہ ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نعمان بن بشیر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور بسا اوقات دونوں ایک ہی دن میں آ پڑتے تو بھی انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے۔ [سنن ترمذي/أبواب العيدين/حدیث: 533]
1؎:
یعنی اس سند میں حبیب بن سالم اور نعمان بن بشیر کے درمیان حبیب کے والد کا اضافہ ہے، جو صحیح نہیں ہے۔
2؎:
یعنی: بغیر ’’عن أبیہ‘‘ کے اضافہ کے، یہ روایت آگے آ رہی ہے۔
3؎:
اس میں کوئی تضاد نہیں، کبھی آپ یہ سورتیں پڑھتے اور کبھی وہ سورتیں، بہر حال ان کی قراءت مسنون ہے، فرض نہیں، لیکن ایسا نہیں کہ بعض لوگوں کی طرح ان مسنون سورتوں کو پڑھے ہی نہیں۔
مسنون عمل کو بغیر کسی شرعی عذر کے جان بوجھ کر چھوڑنا سخت گنا ہ ہے۔
حبیب بن سالم نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے اور جب کبھی عید اور جمعہ دونوں جمع ہو جاتے تو ان دونوں میں بھی آپ انہی دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1425]
➋ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جمعے کے دن عید آ جائے تو عید بھی پڑھی جائے اور جمعہ بھی، خطیب اور قرب و جوار کے لوگوں کے لیے یہی افضل ہے، اگر وہ جمعے کی بجائے ظہر پڑھ لیں تو بھی جائز ہے۔ واللہ أعلم۔
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اور جمعہ کے دن «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور کبھی یہ دونوں ایک ساتھ ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے، تو بھی انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1569]
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہم کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ اور عید دونوں میں «سبح اسم ربك الأعلى» اور «هل أتاك حديث الغاشية» پڑھتے تھے، اور جب جمعہ اور عید ایک ہی دن میں جمع ہو جاتے تو بھی آپ انہیں دونوں سورتوں کو پڑھتے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب صلاة العيدين/حدیث: 1591]
سورہ اعلیٰ میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہر کام میں تدریج اور ترتیب ہے۔
اس لیے اپنے رب پر بھروسہ رکھو جلد وہ وقت آئے گا جب تمہاری محنت وکوشش بارآور ہو گی اور تمہاری سعی بامراد ہو گی۔
پیغمبر اور مبلغ کا کام سنانا ہے اور سنیں گے صرف وہی لوگ جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں اور کامیابی انہیں خوش بختوں کے لیے ہے جنھوں نے اپنے آپ کو پاک کیا۔
اپنے رب کو یاد کیا اورنماز پڑھی جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی لذت کو جوعارضی اور فانی ہے۔
آخرت پر جو بہتر اور پائیدار ہے ترجیح دیتے ہیں۔
وہ کامیابی اور کامرانی سے ہم کنار نہیں ہو سکتے۔
دین کی پابندی ان کے بس کا روگ نہیں ہے۔
اور سورہ غاشیہ میں بتایا گیا ہے جو لوگ قیامت سے بے فکر ہو کر زندگی گزارتے ہیں۔
ان کو قیامت کے دن کن حالات سے سابقہ پیش آئے گا اور جو لوگ قیامت سے ڈرتے ہوئے زندگی گزار دیں گے۔
ان کو کس قسم کی کامیابی نصیب ہو گی۔
اس سے ثابت ہوا کہ نماز عید اور نماز جمعہ میں سورۃ الاعلی اور سورۃ الغاشیہ کی قرٱت کرنی چاہیے۔