حدیث نمبر: 526
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، وَأَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا نَعَسَ أَحَدُكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَلْيَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِهِ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن اونگھے تو اپنی جگہ بدل دے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 526
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1025) ، التعليق على ابن خزيمة (1819)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الصلاة 239 (1119) ، ( تحفة الأشراف : 8406) ، مسند احمد (2/22، 135) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 1119

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1119 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´امام کے خطبہ کے دوران آدمی کو اونگھ آئے تو کیا کرے؟`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جب تم میں سے کسی کو مسجد میں بیٹھے بیٹھے اونگھ آنے لگے تو وہ اپنی جگہ سے ہٹ کر دوسری جگہ بیٹھ جائے۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1119]
1119. اردو حاشیہ:
اونگھ یا نیند دور کرنے کا ایک اور طریقہ بھی ہو سکتا ہے، کہ وضو کر لے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1119 سے ماخوذ ہے۔