سنن ترمذي
كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ قَبْلَ الْجُمُعَةِ وَبَعْدَهَا باب: جمعہ سے پہلے اور اس کے بعد کی سنتوں کا بیان۔
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : كُنَّا نَعُدُّ سُهَيْلَ بْنَ أَبِي صَالِحٍ ثَبْتًا فِي الْحَدِيثِ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ . وَرُوِي عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الْجُمُعَةِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا . وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ أَمَرَ أَنْ يُصَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ، ثُمَّ أَرْبَعًا . وَذَهَبَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ إِلَى قَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ . وقَالَ إِسْحَاق : إِنْ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ صَلَّى أَرْبَعًا ، وَإِنْ صَلَّى فِي بَيْتِهِ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ ، وَاحْتَجَّ بِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ، وَحَدِيثُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مُصَلِّيًا بَعْدَ الْجُمُعَةِ فَلْيُصَلِّ أَرْبَعًا " . قَالَ أَبُو عِيسَى : وَابْنُ عُمَرَ هُوَ الَّذِي رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ " وَابْنُ عُمَرَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ، وَصَلَّى بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ أَرْبَعًا . حَدَّثَنَا بِذَلِكَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، قَالَ : رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ صَلَّى بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ أَرْبَعًا . حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، قَالَ : مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَنَصَّ لِلْحَدِيثِ مِنْ الزُّهْرِيِّ ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ أَهْوَنُ عَلَيْهِ مِنْهُ ، إِنْ كَانَتِ الدَّنَانِيرُ وَالدَّرَاهِمُ عِنْدَهُ بِمَنْزِلَةِ الْبَعْرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى : سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ ، قَال : سَمِعْتُ سُفْيَانَ بْنَ عُيَيْنَةَ ، يَقُولُ : كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَسَنَّ مِنْ الزُّهْرِيِّ .´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو تم میں سے جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چاہیئے کہ چار رکعت پڑھے “ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے ، ۲- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے ، ۳- نیز عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے چار رکعتیں اور اس کے بعد بھی چار رکعتیں پڑھتے تھے ، ۴- اور علی بن ابی طالب رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے کہ انہوں نے حکم دیا کہ جمعہ کے بعد پہلے دو پھر چار رکعتیں پڑھی جائیں ، ۵- سفیان ثوری اور ابن مبارک بھی ابن مسعود کے قول کی طرف گئے ہیں ، ۶- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں : جمعہ کے دن اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں اور اگر اپنے گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھے ، ان کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے ۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ( یہ بھی ) حدیث ہے کہ تم میں سے جو کوئی جمعہ کے بعد نماز پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے ، ۷- ابن عمر رضی الله عنہما ہی ہیں جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ جمعہ کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے ۔ اور ابن عمر رضی الله عنہما نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مسجد میں جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں اور دو رکعتوں کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔ عطا سے روایت کی ہے کہ میں نے ابن عمر رضی الله عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھیں ۔ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھے تو اسے چاہیئے کہ اس کے بعد چار رکعتیں پڑھے “ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1427]
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہی نظریہ ہے۔
امام اسحاق کا قول ہے مسجد میں پڑھے تو چار پڑھے اور اگر گھر میں پڑھے تو دو پڑھ لے شاہ ولی اللہ نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے۔
لیکن امام مالک رحمۃ اللہ علیہ۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اورامام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جمعہ کی سنتوں کو گھر میں پڑھنا افضل ہے دو پڑھ لے یا چار۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (محمد بن صباح کی روایت میں ہے) جو شخص جمعہ کے بعد پڑھنا چاہے تو وہ چار رکعتیں پڑھے، اور راوی نے پوری حدیث بیان کی۔ اور احمد بن یونس کی روایت میں یہ ہے کہ جب تم نماز جمعہ پڑھ چکو تو اس کے بعد چار رکعتیں پڑھو۔ سہیل کہتے ہیں: میرے والد ابوصالح نے مجھ سے کہا: میرے بیٹے! اگر تم نے مسجد میں دو رکعت پڑھ لی ہے پھر گھر آئے ہو تو (گھر پر) دو رکعت اور پڑھو۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1131]
یہ تلقین ترغیب اور استحباب کے لیے ہے۔
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم جمعہ کے بعد سنت پڑھو تو چار رکعت پڑھو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1132]
فائدہ: معلوم ہوا کہ جمعے کی فرض نماز کے بعد دو رکعت سنت بھی اد ا کی جاسکتی ہے۔
اور چار رکعت بھی اور بعض نے ان دونوں کے درمیان یہ تطبیق دی ہے۔
کہ مسجد میں پڑھے تو چارسنتیں پڑھے۔ (دو دو کرکے یا بہ یک سلام)
اور گھر جا کر پڑھے تو دو رکعت پڑھے۔ (مرعاۃ)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نماز جمعہ کے بعد چار رکعات پڑھنی چاہئیں، اور دو رکعت پڑھنا بھی درست ہے (صحیح البخاری: 895) جو میسر آ جائیں وہ پڑھ لی جائیں نفلی نماز کا گھر میں اہتمام کرنا افضل ہے۔