حدیث نمبر: 522
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ إِذَا صَلَّى الْجُمُعَةَ انْصَرَفَ فَصَلَّى سَجْدَتَيْنِ فِي بَيْتِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ ذَلِكَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´نافع سے روایت ہے` ابن عمر رضی الله عنہما جب جمعہ پڑھ لیتے تو ( گھر ) واپس آتے اور دو رکعت اپنے گھر میں پڑھتے پھر کہتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 522
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1130)
تخریج حدیث «انظر ما قبلہ ( تحفة الأشراف : 8276) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 882 | سنن ابي داود: 1127 | سنن ابن ماجه: 1130

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1127 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´فریضہ جمعہ کے بعد کی نفلی نماز کا بیان۔`
نافع کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے جمعہ کے دن ایک شخص کو اپنی اسی جگہ پر دو رکعت نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا، (جہاں اس نے جمعہ کی نماز ادا کی تھی) تو انہوں نے اس شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا دیا اور کہا: کیا تم جمعہ چار رکعت پڑھتے ہو؟ اور عبداللہ بن عمر جمعہ کے دن دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھا کرتے تھے اور کہتے تھے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے ہی کیا ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1127]
1127۔ اردو حاشیہ:
➊ فرائض کے بعد فوراً اس جگہ نوافل نہیں پڑھنے چاہیں بلکہ جگہ بدل لی جائے یا کسی سے بات چیت یا اذکار کے ذریعے سے وقفہ کیا جائے۔
➋ جمعہ کے بعد گھر میں جا کر دو رکعتیں پڑھنا سنت ہے۔
➌ علماء کے ذمہ ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ جرأت سے ادا کیا کریں لیکن اس عظیم مقصد کے لئے ضروری ہے کہ دوسرے لوگوں کو اس کی تلقین کرنے سے پہلے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں۔ یعنی اپنے اخلاق کردار اور اعمال کو سنت مطہرہ کے مطابق بنائیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1127 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1130 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے بعد کی سنتوں کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب وہ جمعہ کی نماز پڑھ کر لوٹتے تو اپنے گھر میں دو رکعت پڑھتے، اور کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1130]
اردو حاشہ:
فائده:
رسول اللہ ﷺ نفلی نماز اور سنتیں گھر میں ادا کرتے تھے۔
تاہم مسجد میں بھی سنتیں پڑھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1130 سے ماخوذ ہے۔