حدیث نمبر: 515
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، قَالَ : سَمِعْتُ عُمَارَةَ بْنَ رُوَيْبَةَ الثَّقَفِيَّ، وَبِشْرُ بْنُ مَرْوَانَ يَخْطُبُ ، فَرَفَعَ يَدَيْهِ فِي الدُّعَاءِ ، فَقَالَ عُمَارَةُ : " قَبَّحَ اللَّهُ هَاتَيْنِ الْيُدَيَّتَيْنِ الْقُصَيَّرَتَيْنِ ، لَقَدْ رأَيتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَا يَزِيدُ عَلَى أَنْ يَقُولَ هَكَذَا ، وَأَشَارَ هُشَيْمٌ بِالسَّبَابةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حصین کہتے ہیں کہ` بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے ، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا : اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں ، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔

وضاحت:
۱؎: صحیح مسلم میں «فی الدعاء» کا لفظ نہیں ہے، مولف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعا میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 515
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، صحيح أبي داود (1012)
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الجمعة 13 (874) ، سنن ابی داود/ الصلاة 230 (1104) ، سنن النسائی/الجمعة 29 (1413) ، ( تحفة الأشراف : 10377) ، مسند احمد (4/135، 136، 261) ، سنن الدارمی/الصلاة 201 (1601) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 874 | سنن ابي داود: 1104

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´منبر پر ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنے کی کراہت کا بیان۔`
حصین کہتے ہیں کہ بشر بن مروان خطبہ دے رہے تھے، انہوں نے دعا ۱؎ کے لیے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے، تو میں نے عمارہ بن رویبہ کو کہتے سنا: اللہ ان دونوں چھوٹے ہاتھوں کو غارت کرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صرف اس طرح کرتے تھے اس سے زیادہ کچھ نہیں، اور ہشیم نے اپنی انگشت شہادت سے اشارہ کیا۔ [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 515]
اردو حاشہ:
1؎:
صحیح مسلم میں ((فِی الدُّعَاءِ)) کا لفظ نہیں ہے، مؤلف نے اسی لفظ سے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ خطبہ جمعہ کی حالت میں دعاء میں ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے، اور مسلم کی روایت کے مطابق حدیث کا مطلب ہے کہ خطبہ میں بہت زیادہ ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئے اور وہ جو صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے دورانِ خطبہ بارش کے لیے دعا کی اور ہاتھ اٹھایا، تو بقول بعض ائمہ یہ استسقاء (بارش کے طلب) کی دعا تھی اس لیے اٹھایا تھا، صحیح بات یہ ہے کہ عمارہ بن رویبہ نے مطلق حالت خطبہ میں ہاتھوں کو زیادہ حرکت کی بابت تنبیہ کی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 515 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1104 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´خطبہ میں امام کا منبر پر دونوں ہاتھ اٹھانا کیسا ہے؟`
حصین بن عبدالرحمٰن کہتے ہیں عمارہ بن رویبہ نے بشر بن مروان کو جمعہ کے دن (منبر پر دونوں ہاتھ اٹھا کر) دعا مانگتے ہوئے دیکھا تو عمارہ نے کہا: اللہ ان دونوں ہاتھوں کو برباد کرے۔ زائدہ کہتے ہیں کہ حصین نے کہا: مجھ سے عمارہ نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھا ہے، آپ اس سے (یعنی شہادت کی انگلی کے ذریعہ اشارہ کرنے سے (جو انگوٹھے کے قریب ہوتی ہے) زیادہ کچھ نہ کرتے تھے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الجمعة /حدیث: 1104]
1104۔ اردو حاشیہ:
خطیب کا دوران خطبہ میں اپنے ہاتھ ہلا ہلا کر لوگوں سے خطاب کرنا خلاف سنت اور خلاف ادب جمعہ ہے۔ صرف انگشت شہادت سے اشارہ ثابت ہے۔ رہا یہ استدلال کہ اثنائے خطبہ ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا ممنوع ہے اگرچہ بعض رواۃ اس طرف گئے ہیں۔ مگر یہ استدلال مرجوح ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے استسقاء کے لئے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی تھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1104 سے ماخوذ ہے۔