سنن ترمذي
كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: جمعہ کے احکام و مسائل
باب مَا جَاءَ مِنْ كَمْ تُؤْتَى الْجُمُعَةُ باب: جمعہ میں کتنی دوری سے آیا جائے؟
سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ الْحَسَنِ ، يَقُولُ : كُنَّا عِنْدَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فَذَكَرُوا عَلَى مَنْ تَجِبُ الْجُمُعَةُ ، فَلَمْ يَذْكُرْ أَحْمَدُ فِيهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ : فَقُلْتُ لِأَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ فِيهِ : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ أَحْمَدُ : عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، حَدَّثَنَا مُعَارِكُ بْنُ عَبَّادٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْجُمُعَةُ عَلَى مَنْ آوَاهُ اللَّيْلُ إِلَى أَهْلِهِ " . قَالَ : فَغَضِبَ عَلَيَّ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، وَقَالَ لِي : اسْتَغْفِرْ ، رَبَّكَ اسْتَغْفِرْ رَبَّكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : إِنَّمَا فَعَلَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ هَذَا لِأَنَّهُ لَمْ يَعُدَّ هَذَا الْحَدِيثَ شَيْئًا ، وَضَعَّفَهُ لِحَالِ إِسْنَادِهِ .´میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ` ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے ؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ذکر نہیں کی ، احمد بن حسن کہتے ہیں : تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا : اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے ) ، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد المقبري عن أبيه عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایا : ” جمعہ اس پر واجب ہے جو رات کو اپنے گھر والوں کے پاس لوٹ کر آ سکے “ ، احمد بن حسن کہتے ہیں کہ احمد بن حنبل مجھ پر غصہ ہوئے اور مجھ سے کہا : اپنے رب سے استغفار کرو ، اپنے رب سے استغفار کرو ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : احمد بن حنبل نے ایسا اس لیے کیا کہ انہوں نے اس حدیث کو کوئی حیثیت نہیں دی اور اسے کسی شمار میں نہیں رکھا ، سند کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
میں نے احمد بن حسن کو کہتے سنا کہ ہم لوگ احمد بن حنبل کے پاس تھے تو لوگوں نے ذکر کیا کہ جمعہ کس پر واجب ہے؟ تو امام احمد نے اس سلسلے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی چیز ذکر نہیں کی، احمد بن حسن کہتے ہیں: تو میں نے احمد بن حنبل سے کہا: اس سلسلہ میں ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے جسے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، تو امام احمد نے پوچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے؟ میں نے کہا: ہاں (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے)، پھر احمد بن حسن نے «حجاج بن نصير حدثنا معارك بن عباد عن عبد الله بن سعيد۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الجمعة/حدیث: 502]
نوٹ:
(اس کے تین راوی ضعیف ہیں: عبداللہ بن سعید متروک، اور حجاج بن نصیر اور معارک دونوں ضعیف ہیں)