سنن ترمذي
كتاب الطهارة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم— کتاب: طہارت کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي النَّضْحِ بَعْدَ الْوُضُوءِ باب: وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 50
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ أَبِي عُبَيْدِ اللَّهِ السَّلِيمِيُّ الْبَصْرِيُّ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " جَاءَنِي جِبْرِيلُ ، فَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ إِذَا تَوَضَّأْتَ فَانْتَضِحْ " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا غَرِيبٌ ، قَالَ : وسَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ : الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍ الْهَاشِمِيُّ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي الْحَكَمِ بْنِ سُفْيَانَ , وَابْنِ عَبَّاسٍ , وَزَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ , وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وقَالَ بَعْضُهُمْ : سُفْيَانُ بْنُ الْحَكَمِ أَوْ الْحَكَمُ بْنُ سُفْيَانَ ، وَاضْطَرَبُوا فِي هَذَا الْحَدِيثِ .ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا : ” میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا : اے محمد ! جب آپ وضو کریں تو ( شرمگاہ پر ) پانی چھڑک لیں “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- یہ حدیث غریب ہے ، ۲- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو یہ کہتے سنا ہے کہ حسن بن علی الھاشمی منکر الحدیث راوی ہیں ۲؎ ، ۳- اس حدیث کی سند میں لوگ اضطراب کا شکار ہیں ، ۴- اس باب میں ابوالحکم بن سفیان ، ابن عباس ، زید بن حارثہ اور ابو سعید خدری رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔
وضاحت:
۱؎: اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہو جاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہو گا، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہو گی تو وہ پیشاب ہی کی ہو گی۔
۲؎: حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔
۲؎: حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´وضو کے بعد (شرمگاہ پر) پانی چھڑکنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا: اے محمد! جب آپ وضو کریں تو (شرمگاہ پر) پانی چھڑک لیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 50]
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ” میرے پاس جبرائیل نے آ کر کہا: اے محمد! جب آپ وضو کریں تو (شرمگاہ پر) پانی چھڑک لیں “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الطهارة/حدیث: 50]
اردو حاشہ:
1؎:
اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہو جاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہو گا، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہو گی تو وہ پیشاب ہی کی ہوگی۔
2؎:
حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔
نوٹ:
(اس کے راوی حسن بن علی ہاشمی ضعیف ہیں، قولی حدیث ثابت نہیں، فعل رسول ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے، دیکھئے: الضعیفۃ 1312، والصحیحۃ 841)
1؎:
اس کا فائدہ یہ ہے کہ اس سے یہ وسوسہ ختم ہو جاتا ہے کہ شاید شرمگاہ کے پاس کپڑے میں جو نمی ہے وہ ہو نہ ہو پیشاب کے قطروں سے ہو، اور ظاہر بات ہے کہ وضو کے بعد اس طرح کی نمی ملنے پر یہ شک ہو گا، لیکن اگر پیشاب کے بعد اور وضو سے پہلے نمی ہو گی تو وہ پیشاب ہی کی ہوگی۔
2؎:
حسن بن علی نوفلی ہاشمی کی وجہ سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ضعیف ہے، مگر اس باب میں دیگر صحابہ سے فعل رسول ثابت ہے۔
نوٹ:
(اس کے راوی حسن بن علی ہاشمی ضعیف ہیں، قولی حدیث ثابت نہیں، فعل رسول ﷺ سے یہ عمل ثابت ہے، دیکھئے: الضعیفۃ 1312، والصحیحۃ 841)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 50 سے ماخوذ ہے۔