حدیث نمبر: 496
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَغَسَّلَ وَبَكَّرَ وَابْتَكَرَ وَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا " . قَالَ مَحْمُودٌ : قَالَ وَكِيعٌ : اغْتَسَلَ هُوَ وَغَسَّلَ امْرَأَتَهُ . قَالَ : وَيُرْوَى عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ : مَنْ غَسَّلَ وَاغْتَسَلَ ، يَعْنِي غَسَلَ رَأْسَهُ وَاغْتَسَلَ . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي بَكْرٍ ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَسَلْمَانَ ، وَأَبِي ذَرٍّ ، وَأَبِي سَعِيدٍ ، وَابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي أَيُّوبَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ ، وَأَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ اسْمُهُ شَرَاحِيلُ بْنُ آدَةَ . وَأَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْقَصَّابُ الْكُوفِيُّ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اوس بن اوس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اور غسل کرایا ، اور سویرے پہنچا ، شروع سے خطبہ میں شریک رہا ، امام کے قریب بیٹھا اور غور سے خطبہ سنا اور خاموش رہا تو اسے اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور رات کے قیام کا ثواب ملے گا “ ۔ وکیع کہتے ہیں : اس کا معنی ہے کہ اس نے خود غسل کیا اور اپنی عورت کو بھی غسل کرایا ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- اوس بن اوس کی حدیث حسن ہے ، ۲- عبداللہ بن مبارک نے اس حدیث کے سلسلہ میں کہا ہے کہ «من غسل واغتسل» کے معنی ہیں : جس نے اپنا سر دھویا اور غسل کیا ، ۳- اس باب میں ابوبکر ، عمران بن حصین ، سلمان ، ابوذر ، ابوسعید ، ابن عمر ، اور ابوایوب رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / كتاب الجمعة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم / حدیث: 496
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1087)
تخریج حدیث «سنن ابی داود/ الطہارة 129 (345) ، سنن النسائی/الجمعة 10 (1382) ، سنن ابن ماجہ/الإقامة 80 (1087) ، ( تحفة الأشراف : 1735) ، مسند احمد 4/8، 9، 10) ، سنن الدارمی/الصلاة 194 (1588) (صحیح)»
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 1382 | سنن نسائي: 1385 | سنن نسائي: 1399 | سنن ابي داود: 345 | سنن ابن ماجه: 1087

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1382 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ کے دن کے غسل کی فضیلت کا بیان۔`
اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو غسل کرائے ۱؎ غسل کرے، سویرے سویرے (مسجد) جائے، شروع خطبہ سے موجود رہے، اور امام سے قریب بیٹھے، اور کوئی لغو کام نہ کرے، تو اس کو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزے اور قیام کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1382]
1382۔ اردو حاشیہ: ➊ حدیث میں بیان شدہ ثواب صرف غسل کی بنا پر نہیں بلکہ بہت سے کاموں پر ہے۔ مگر ان کاموں میں چونکہ غسل بھی شامل ہے، لہٰذا اس فضیلت میں غسل کا بھی دخل ہے۔
سر یا کپڑوں کو دھویا یہ عربی لفظ «غسل» کا ترجمہ ہے۔ بعض لوگوں نے اس کے معنیٰ یہ کیے ہیں کہ اپنی بیوی کو بھی غسل کرائے، یعنی اس سے جماع کرے تاکہ وہ بھی غسل کر لے، تاہم ہمارے نزدیک پہلا معنیٰ راجح ہے۔ واللہ أعلم۔
فضول کام مثلاً: باتیں کرنا، کپڑوں، صفوں کے تنکوں یا دریوں وغیرہ کے دھاگوں سے کھیلنا۔
ایک سال کے صیام و قیام یعنی دن کو روزہ اور رات کو مسلسل قیام کرنا۔ ان میں کبھی ناغہ ہو، نہ سستی۔ یہ اس قدر مشکل کام ہے کہ کوئی انسان اسے نہیں کر سکتا۔ لیکن مذکورہ اعمال کرنے والا اس عظیم اجر کا مستحق قرار پائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1382 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 1399 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´جمعہ میں امام کے نزدیک رہنے کی فضیلت کا بیان۔`
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غسل کرائے اور خود بھی غسل کرے، اور مسجد کے لیے سویرے نکل جائے، اور امام سے قریب رہے، اور خاموشی سے خطبہ سنے، پھر کوئی لغو کام نہ کرے، تو اسے ہر قدم کے عوض ایک سال کے روزے، اور قیام کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الجمعة/حدیث: 1399]
1399۔ اردو حاشیہ: دیکھیے ‘حدیث: 1382
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1399 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 345 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص جمعہ کے دن نہلائے اور خود بھی نہائے ۱؎ پھر صبح سویرے اول وقت میں (مسجد) جائے، شروع سے خطبہ میں رہے، پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام سے قریب ہو کر غور سے خطبہ سنے، اور لغو بات نہ کہے تو اس کو ہر قدم پر ایک سال کے روزے اور شب بیداری کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة /حدیث: 345]
345۔ اردو حاشیہ:
یہ حدیث جامع ترمذی [496] اور سنن ابن ماجہ [1087] میں بھی وارد ہے۔ امام ترمذی رحمہ اللہ  نے اسے حسن کہا ہے۔ شیخ البانی  رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے۔ [صحيح أبوداود، حديث: 333]
شروح حدیث میں وارد ہے کہ اس حدیث کے الفاظ «غَسّلَ واغتسل» میں «غسل» کو حرف س کی تخفیف اور تشدید دونوں سے پڑھا گیا ہے۔ اور اس کے کئی معانی ذکر کیے گئے ہیں۔
● ایک تو یہی تاکیدی معنی ہے جو راقم نے اختیار کیا ہے۔
● دوسرا یہ ہے کہ آدمی نے پہلے خطمی، صابن، یا شیمپو وغیرہ استعمال کیا ہو بعدازاں پانی بہایا ہو۔
● تیسرا یہ کہ جس نے اپنی زوجہ سے مباشرت کی اور اس پر بھی غسل لازم کر دیا ہو۔ اور اس میں حکمت یہ ہے کہ اس طرح انسان نفسانی اور جذباتی طور پر بہت پرسکون ہو جاتا ہے اور ذہن پراگندہ نہیں ہوتا اور عبادت میں یکسورہتا ہے۔ «والله أعلم»
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 345 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 1087 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´جمعہ کے دن غسل کرنے کا بیان۔`
اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے جمعہ کے دن غسل کرایا اور خود بھی غسل کیا ۱؎، اور نماز کے لیے سویرے نکلا اور شروع خطبہ میں حاضر ہوا، بغیر سواری کے پیدل چل کر آیا، اور امام کے قریب بیٹھا، خطبہ غور سے سنا، اور کوئی لغو کام نہیں کیا، تو اسے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے نفلی روزوں اور تہجد کا ثواب ملے گا۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 1087]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1) (غسل۔
واغتسل)
کا مطلب بھی یہ بیان کیا گیا ہے کہ سر دھویا اور نہایا یعنی اہتمام سے غسل کیا اور پوری صفائی حاصل کی۔
دوسرا مطلب جس ک مطابق ترجمہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اپنی بیوی کا صنفی حق ادا کیا جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جمعے کو آتے ہوئے راستے میں ناجائز انداز سے نظر نہیں پڑے گی۔

(2)
اگر مسجد دور ہو تو سوار ہوکر آنا جائز ہے۔
تاہم پیدل چل کر آنا زیادہ ثواب کا باعث ہے۔

(3)
جس طرح نماز باجماعت میں اگلی صفوں کا ثواب زیادہ ہے۔
اس طرح خطبہ سننے کے لئے امام کے قریب ہو کر بیٹھنا افضل ہے۔
اس کے لئے جلدی مسجد میں آنا پڑے گا جو کہ خود ایک نیکی ہے۔
اوراس کے نتیجے میں اگلی صفوں میں جگہ مل جائےگی۔

(4)
جمعے کی نماز کے ساتھ ساتھ خطبے کی بھی بہت اہمیت ہے۔
اس لئے خطبہ پوری توجہ سے سننا چاہیے۔
خطبے کے دوران میں بات چیت میں مشغول ہونا یا کسی اور چیز کی طرف متوجہ ہونا خطبے کے مقصد کے منافی ہے۔

(5)
تھوڑا عمل بھی اگر اخلاص کے ساتھ اور سنت کے مطابق کیا جائے تو اس کا بہت زیادہ ثواب ملتا ہے۔

(6)
معمولی سستی کیوجہ سے اتنا عظیم ثواب چھوڑ دینا بڑی محرومی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 1087 سے ماخوذ ہے۔