سنن ترمذي
أبواب الوتر— کتاب: صلاۃ وترکے ابواب
باب مَا جَاءَ فِي الصَّلاَةِ عِنْدَ الزَّوَالِ باب: زوال (سورج ڈھلنے) کے وقت کی نماز کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ أَبِي الْوَضَّاحِ هُوَ : أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي أَرْبَعًا بَعْدَ أَنْ تَزُولَ الشَّمْسُ قَبْلَ الظُّهْرِ ، وَقَالَ : إِنَّهَا سَاعَةٌ تُفْتَحُ فِيهَا أَبْوَابُ السَّمَاءِ ، وَأُحِبُّ أَنْ يَصْعَدَ لِي فِيهَا عَمَلٌ صَالِحٌ " . قَالَ : وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ كَانَ " يُصَلِّي أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ بَعْدَ الزَّوَالِ لَا يُسَلِّمُ إِلَّا فِي آخِرِهِنَّ " .´عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے ، اور فرماتے : ” یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے “ ۱؎ ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : ۱- عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کی حدیث حسن غریب ہے ، ۲- اس باب میں علی اور ابوایوب رضی الله عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں ، ۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ زوال کے بعد چار رکعتیں پڑھتے اور ان کے آخر میں ہی سلام پھیرتے ۲؎ ۔
۲؎: یہ حدیث ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے اور اس میں ”آخر میں سلام پھیرنے ولا“ ٹکڑا ضعیف ہے (دیکھئیے صحیح ابوداود۱۱۵۳)
تشریح، فوائد و مسائل
عبداللہ بن سائب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر سے پہلے چار رکعتیں پڑھتے، اور فرماتے: ” یہ ایسا وقت ہے جس میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ میرا نیک عمل اس میں اوپر چڑھے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر/حدیث: 478]
1؎:
ہو سکتا ہے کہ یہ ظہر سے پہلے والی چار رکعت سنت مؤکدہ ہی ہوں، کسی نے اس کی وضاحت نہیں کی ہے کہ دونوں الگ الگ نمازیں ہیں یا دونوں ایک ہی ہیں۔
2؎:
یہ حدیث ابو داؤد اور ابن ماجہ نے روایت کی ہے اور اس میں ’’آخر میں سلام پھیرتے‘‘ والا ٹکڑا ضعیف ہے (دیکھئے صحیح ابو داؤد1153)