حدیث نمبر: 477
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ : " كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى حَتَّى نَقُولَ : لَا يَدَعُ وَيَدَعُهَا حَتَّى نَقُولَ : لَا يُصَلِّي " . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے ۔ یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اسے نہیں چھوڑیں گے ، اور آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب اسے نہیں پڑھیں گے ۔
امام ترمذی کہتے ہیں : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔

حوالہ حدیث سنن ترمذي / أبواب الوتر​ / حدیث: 477
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح، ابن ماجة (1379) , شیخ زبیر علی زئی: (477) إسناده ضعيف, عطية العوفي ضعيف مدلس (د 452)
تخریج حدیث «تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : 4227) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہے)»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´صلاۃ الضحی (چاشت کی نماز) کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے تھے۔ یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ اسے نہیں چھوڑیں گے، اور آپ اسے چھوڑ دیتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ اب اسے نہیں پڑھیں گے۔ [سنن ترمذي/أبواب الوتر​/حدیث: 477]
اردو حاشہ:
نوٹ:
(سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہے)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 477 سے ماخوذ ہے۔